عمل اور نیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰
اسے مالی فائدہ پانے کی امید ہو۔ ایک قیادت کا شائق آدمی انھیں چیزوں میں دھوم مچاتا ہے جن کے ذریعہ یہ امید ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کا قائد بن جائے گا۔
دنیا کے لئے کرنے والے کا عمل دنیا ہی میں رہ جائے گا اور جو شخص آخرت کے لئے عمل کرے وہ اپنے عمل کا انجام مزید اضافہ کے ساتھ آخرت میں پائے گا۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو آدمی صالح نیت کے ساتھ عمل کرے اسی کا عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول ہوتا ہے۔ اور جس آدمی کی نیت صالح نہ ہو اس کا بظاہر نیک عمل بھی خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرے گا۔
مثلاً ایک آدمی دکھاوے کے لئے مال خرچ کرے تو اس پر اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی آدمی دکھاوے کے لئے عبادت کرے تو وہ بھی اس کو کسی ثواب کا مستحق نہیں بنائے گی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی شہرت کے لئے جہاد کرے تو ایسا جہاد بھی خدا کی نظر میں بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
اس معاملہ کے دو درجے ہیں۔ ایک کو شعوری اور دوسرے کو غیر شعوری کہا جاسکتا ہے۔ شعوری درجہ یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر یہ سوچ کر کوئی کام کرے کہ اس کے ذریعہ سے اس کو دنیوی فائدے حاصل ہوں گے۔ لوگوں میں اس کی عزت اور مقبولیت بڑھے گی۔ اس معاملہ کی غیر شعوری صورت یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر اور بالکل سوچ سمجھ کر تو ایسا کام نہ کرے مگر اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ ایسا بن گیا ہو کہ اس کو صرف نمائشیی کاموں میں دلچسپی ہو۔ غیر نمائش کام اس کو اہم نظر نہ آئیں، اس بنا پر وہ اپنے آپ کو اس میں شریک بھی نہ کرے ۔ اس کو مادی فائدے والے کاموں سے رغبت ہو اور غیر مادی قسم کے کاموں سے بے رغبتی۔ ایسا آدمی بھی وسیع تر تقسیم کے اعتبار سے مذکورہ زمرہ ہی میں شامل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues