Al-Risala · March 2000 · page 11

یہ فرق کیوں

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱

یہ فرق کیوں

یہود کا جرم قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو مانا لیکن انھوں نے محمدﷺ کا انکار کر دیا۔ اس کے برعکس صحابہ کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ تمام پیغمبروں کو مانتے ہیں۔ وہ جو پہلے آئے اور وہ جواب محمد بن عبداللہ کی صورت میں ان کے سامنے موجود ہیں۔ یہود کا اور صحابہ کا یہ فرق محض ”فہرست“ کا فرق نہ تھا۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ یہود کی فہرست انبیاء عددی معنوں میں غیر مکمل تھی اور صحابہ کی فہرست انبیاء عددی معنوں میں مکمل۔ یہ فہرست کا معاملہ نہیں تھا بلکہ حقیقت کا معاملہ تھا۔ یہود کا ماننا اندھی تقلید کی بنیاد پر ماننا تھا اور صحابہ کا ماننا جو ہر شناسی کی بنیاد پر ماننا۔ جو انبیاء تاریخ کے نتیجہ میں یہود کی قومی روایات میں شامل ہو چکے تھے ان کو انھوں نے مان لیا لیکن معاصر پیغمبر جو ان کی قومی روایات میں شامل نہیں ہوا تھا اس کو وہ پہچان نہ سکے، اس لئے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوئے۔ اول الذکر نبیوں کو ماننے کے لئے تقلید آباء کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہ تھی اس لئے ان کو انھوں نے مان لیا۔ مگر دوسرے پیغمبر کو ماننے کے لئے ذاتی طور پر شعوری دریافت کی ضرورت تھی اور یہاں وہ ناکام ہو گئے۔ مذہب یہود در اصل آبائی مذہب کا دوسرا نام ہے۔ اور مذہب صحابہ شعوری مذہب کا دوسرا نام۔ ہوتا یہ ہے کہ ابتدائی دور میں کچھ لوگ دعوت حق سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان پر حقیقت کھلتی ہے۔ وہ اپنے ذاتی علم کے تحت ایک شعوری فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کی ذات کے اندر ایک نفسیاتی انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ اس کے زیر اثر وہ ایک زندگی کو بالقصد چھوڑتے ہیں اور دوسری زندگی کو بالقصد اختیار کرتے ہیں۔

پہلا دور شعوری ایمان کا دور ہوتا ہے، جب کہ بعد کے دور کے لوگ اس لئے مومن ہوتے ہیں کہ ان کے باپ دادا مومن تھے۔ وہ قومی اور نسلی تعلق کی بنا پر مومن ہوتے ہیں نہ کہ کسی ذہنی انقلاب کے نتیجہ میں مومن بنتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page