حضرت لبید
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲
حضرت لبید
لبید بن ربیعہ بن مالک العامری (وفات ۴۱ھ) قدیم عرب کے ایک مشہور شاعر تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں سے ہو تا ہے۔ ہجرت کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کہا جاتا ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد انھوں نے صرف ایک شعر کہا تھا جو یہ ہے :
والمرء يصلحه الجليس الصالح
عمر فاروق ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک بار حضرت لبید سے کہا کہ اپنے کچھ اشعار سنائیے۔ حضرت لبید نے جواب دیا کہ اللہ نے جب مجھ کو بقرہ اور آل عمران جیسی سورتوں کی تعلیم دی تو اس کے بعد میرے لئے مناسب نہیں کہ میں شعر کہوں ( ما كنت لاقول شعراً بعد ان علمنى الله البقرة وآل عمران ) ابن عبد البر، الاستیعاب۔
حضرت لبید نے اپنے شعر میں جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ شریف آدمی احتساب غیر کے بجائے احتساب خویش کے معاملہ میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطی پر گرفت کرتے ہوئے نرمی کا انداز اختیار کر سکتا ہے مگر جب معاملہ خود اپنی غلطی کا ہو تو وہ اس کے لیے بے رحم محاسب بن جاتا ہے۔
شعر کے دوسرے مصرعہ میں انھوں نے صحبت کی اہمیت بتائی ہے ، آدمی اگر زیادہ دیر تک برے کی صحبت اختیار کرے تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی برا بن جائے اور جب آدمی اچھے انسان کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کی صحبت کے اثر سے وہ بھی ایک اچھا آدمی بن جاتا ہے۔ یہ بات بظاہر قرآن کے مقابلہ میں ہے مگر وسیع تر معنی میں اس کا تعلق دوسری حقیقتوں سے بھی ہے۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق قرآن کے سامنے خاموشی اختیار کرنے سے ہے۔ اور وسیع تر انطبا ق کے لحاظ سے ہر حق کے سامنے اپنی زبان بند کر لینے سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues