Al-Risala · March 2000 · page 13

موت کی دستک

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

موت کی دستک

موت ہر آدمی کے گھر پر دستک دیتی ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موت پہلی دستک کے بعد ہی گھر میں داخل ہو جاتی ہے اور آدمی کی روح کو قبض کر لیتی ہے۔ وہ اچانک دنیا کے امتحان گاہ سے نکال کر آخرت میں پہنچادیا جاتا ہے جہاں وہ اپنے اعمال کا انجام پائے۔ اچانک موت کا یہ معاملہ مختلف صورتوں میں پیش آتا ہے۔ مثلاً دل کا تیز دورہ پڑا اور فوری طور پر آدمی کی موت واقع ہو گئی۔ سڑک پر سخت حادثہ پیش آیا اور ایک لمحہ کے اندر زندہ انسان مردہ انسان میں تبدیل ہو گیا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان صحت کی حالت میں رات کو سویا اور صبح ہوئی تو بستر پر صرف اس کی بے جان لاش پڑی ہوئی تھی۔ اچانک موت بلاشبہ بے حد سنگین موت ہے کیونکہ آدمی کو اس میں یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ موت سے پہلے اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ موت بار بار ایک آدمی کے گھر پر دستک دیتی ہے لیکن اندر داخل ہونے سے پہلے ہی وہ لوٹ جاتی ہے۔ اس واپسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً آدمی بیمار ہو کر اچھا ہو جائے۔ سخت حادثہ پیش آجانے کے باوجود موت سے بچ جائے۔ اس کے اوپر حملہ کیا جائے لیکن حملہ آور کا نشانہ خالی چلا جائے، وغیرہ۔

یہ دوسری قسم آدمی کو بار بار موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوچے ۔ وہ اپنی زندگی پر نظر ثانی کرے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے زیادہ صحیح زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے۔ موت کا آپ کے دروازہ پر دستک دے کر چلا جانا گویا اس بات کا الارم ہے کہ ہوشیار ہو جاؤ۔ جلد ہی تمہارا آخری وقت آنے والا ہے۔ اپنی اصلاح کر لو، اس سے پہلے کہ اصلاح کا وقت ہی باقی نہ رہے۔ ہر آدمی موت کی زد میں ہے۔ کوئی بھی چیز آدمی کو موت سے بچانے والی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی آج مرنے والا ہے اور کوئی وہ ہے جس پر کل کے دن موت آئے گی۔ موت کی یاد سے بہتر کوئی معلم انسان کے لئے نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page