دل جیتنا
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴
دل جیتنا
زندگی کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے کہ جیسا دینا ویسا پانا۔ اگر آپ دوسروں کو نفرت دے رہے ہوں تو آپ کو بھی دوسروں سے نفرت ملے گی۔ اگر آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے محبت کا تحفہ ہے تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت کا تحفہ دیا جائے گا۔ اگر آپ اپنے سماج میں مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہوں تو پورا سماج آپ کو اپنے سردار کے روپ میں دیکھنے لگے گا۔
خدا نے خدمت اور نفع بخشی میں بے پناہ کشش رکھی ہے۔ اس میں یہ طاقت ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کر سکے۔ ایسا آدمی لوگوں کے درمیان اپنے آپ مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کو دوسروں سے وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو وہ چاہتا تھا، کیوں کہ اس نے بھی دوسروں کو وہ سب کچھ دے دیا تھا جن کو وہ اپنے لئے چاہتے تھے۔
دوسروں کے خیر خواہ بن جائیے اور پھر آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ دوسروں کے کام آئیے اور پھر آپ کا بھی کوئی کام اٹکاہوانہیں رہے گا۔
اس دنیا میں ہر آدمی مجبور ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارے، یہاں کسی کے لئے بھی تنہا زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں بار بار یہ سوال سامنے آتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ رہنے کا کامیاب طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگوں کو جھکانے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ خود جھک جائیے۔ لوگوں سے لینے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ دینے والے بنیے۔ شکایتوں کو مسئلہ نہ بنائیے بلکہ شکایتوں کو بھول جائیے۔ اختلاف کو ٹکراؤ کا موضوع نہ بنائیے بلکہ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کیجئے۔ کوئی شخص بظاہر آپ کا دشمن نظر آئے تب بھی اس سے نفرت نہ کیجئے۔ یہی دل کو جیتنے کا طریقہ ہے اور جب دل کو جیت لیا جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لئے باقی نہیں رہتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues