Al-Risala · March 2000 · page 36

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

ایک خط برادر محترم و مکرم جناب یوسف نورانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۹۹ بذریعہ فیکس ملا۔ آپ نے جس مسئلہ کی بابت تحریر فرمایا ہے اس پر میں نے کافی غور کیا۔ اس سلسلہ میں چند باتیں مختصر طور پر یہاں درج کرتا ہوں۔ ۱۔ قرآن کی سورۃ الواقعہ (آیت ۸۳-۸۵) میں بتایا گیا ہے کہ موت سے کچھ پہلے جب کہ آدمی ابھی اسی دنیا میں ہوتا ہے تو اس کا تعلق آخرت سے قائم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب موت کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے مردہ رشتہ دار اس کو لینے کے لئے اس کے پاس آجاتے ہیں۔ اس طرح کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ انسانوں کا مردہ روحوں سے تعلق کسی نہ کسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے اگر چہ یہ تعلق وقتی اور جزئی قسم کا ہوتا ہے۔

۲۔ دونوں دنیاؤں کے درمیان اس ربط کا کوئی تعلق کسی قسم کی عملیات یا مشق(exercise) سے نہیں۔ وہ خود بخود اور کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ زندہ انسان کی روحانی تطهیر (spiritual purification) کتنی زیادہ ہوئی ہے۔ زندہ انسان کی جتنی زیادہ تطہیر ہو گی اتنا ہی زیادہ وہ ارواح سے ربط کے قابل ہوگا، اتناہی زیادہ وہ دوسری دنیا کے پیغام کا آخذ(recipient) بنے گا۔ تاہم یہ ربط ارادہ نہیں بلکہ اتفاقا ہوتا ہے۔

۳۔ زندہ انسان اور مردہ انسان کی روح کے درمیان یہ ربط کبھی لمحاتی طورپر عالم بیداری میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس قسم کا ربط انتہائی نادر استثناء (rare exception) ہے۔ زیادہ تر یہ ربط خواب کی صورت میں ہوتا ہے جس کو حدیث میں نبوت کا چھیا لیسواں حصہ بتایا گیا ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے زندہ لوگوں کو اس قسم کے خواب دکھائی دیئے جن کا کچھ تذکرہ ابن قیم کی کتاب الروح میں دیکھا جا سکتا ہے، خود میں نے بھی بعض ایسے خواب دیکھے ہیں جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page