Al-Risala · March 2000 · page 37

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷

خواب میں کسی مردہ رشتہ دار سے میری ملاقات ہوئی۔ مگر اس قسم کا ربط کسی عملیاتی مشق کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف اتفاقی طور پر کسی کو پیش آسکتا ہے۔ مزید یہ کہ خواب کا ذریعہ صرف ظنی ہے۔ وہ وحی کے مانند حقیقی نہیں۔

۴۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد کوئی عورت یا مرد فوراً ہی اپنے اخروی انجام سے دوچار ہو جاتا ہے، حدیث میں آیا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اس سے مراد معروف معنوں میں زمینی قبر کا مقام نہیں ہے۔ یعنی مرنے والے انسان کے اوپر یہ معاملہ قبر کے اندر نہیں ہو تا بلکہ آخرت میں ہوتا ہے۔ قبر عالم آخرت میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ موت اور انجام آخرت میں کوئی فاصلہ نہیں تا ہم یہ بات صرف اجمالی طور پر جانی جاسکتی ہے نہ کہ تفصیلی طور پر۔

۵۔ قرآن میں شہداء کے بارے میں آیا ہے کہ و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم (آل عمران (۱۷۰) اس آیت کا ترجمہ ایک فارسی مترجم نے اس طرح کیا ہے: و مژده می دهند بانانکہ ہنوز نرسیدہ اند (صفحہ ۹۶) یعنی جنت میں پہنچنے کے بعد وہ دنیا میں باقی رہنے والے ساتھی کو خوش خبری دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ مومن اور وفات یافتہ اہل جنت کے درمیان ایک مخفی قسم کا ارتباط (communication) باقی رہتا ہے۔ تاہم اس ارتباط کی کوئی مشقی تدبیر نہیں۔ ایسا واقعہ صرف کسی نفس مطمئن (complex-free soul) کے ساتھ پیش آتا ہے۔

۶۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی، ان کے ساتھ ہم ان کی ذریت کو بھی جمع کر دیں گے، اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے“۔ (الطور ۲۱) اس سے معلوم ہوا کہ اہل خاندان، مثلاً میاں اور بیوی دونوں اگر صاحب ایمان ہیں تو آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اس طرح رحمت کا معاملہ فرمائے گا کہ کم عمل والے فرد کو اپ گریڈ (upgrade) کر کے اس کو زیادہ عمل والے فرد کے درجہ میں پہنچادے گا تاکہ دونوں ایک ساتھ جنت کی پر مسرت دنیا میں رہ سکیں۔ گویا کہ اگر دونوں میں سے ایک کا عمل دوسرے سے زیادہ ہو تو کم عمل والا زیادہ عمل والے کے ساتھ جوڑ دیا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page