Al-Risala · March 2000 · page 38

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸

جائے گانہ کہ اس کے برعکس۔ واضح ہو کہ قرآن میں وسیع تر تقسیم (broad division) کے اعتبار سے جنت کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ پھر ان کی ضمنی تقسیمات ہیں۔ چنانچہ حدیث میں دو سو جنتوں کا ذکر آیا ہے۔

۷۔ ایک مومن جوڑے میں سے اگر ایک فرد کا انتقال ہو گیا اور دوسرا باقی ہے تو زندہ رہنے والے فرد کے لئے بہترین کام یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کو دونوں ہی کے لیے ایک نادر موقع سمجھے۔ وہ اپنی بقیہ زندگی کو اعلیٰ اسلامی عمل میں مصروف کر دے تاکہ اس کو جب اپنے زیادہ عمل کی بنا پر زیادہ اعلیٰ جنت ملے تو اس کا جوڑا بھی مذکورہ خدائی قانون کے مطابق اپ گریڈ (upgrade) ہو کر اس کے ساتھ اس اعلیٰ جنت میں پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ ایک اگر اکانومی کلاس میں ہے اور دوسرا فرسٹ کلاس میں تو اکانومی کلاس والا اپ گریڈ ہو کر فرسٹ کلاس میں پہنچ جائے۔ قرآن کی یہ آیت اہل ایمان کے لیے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زندہ رہنے والا فرد اپنے مرنے والے ساتھی کے غم میں اپنے کو نڈھال نہ کرے۔ وہ اس کی یاد میں پریشان ہو کر اپنے باقی ماندہ وقت کو ضائع نہ کرے۔ بلکہ اپنے ساتھی کی موت کے بعد اس کو زندگی کا جو لمحہ ملا ہے اس کو وہ دونوں ہی کے حق میں ایک قیمتی موقع (opportunity) سمجھے۔ وہ اس ملے ہوئے وقت کو اپنی اور اپنے مرحوم ساتھی کی جنتی ترقی کے لئے استعمال (avail) کرے۔ دعا گو وحید الدین تاریخ: ۱۵ مارچ ۱۹۹۹

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page