Al-Risala · March 2000 · page 44

توجیہہ یا بددیانتی

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

توجیہہ یا بددیانتی

دہلی کے انگریزی اخبار پائیر (۱۷ستمبر ۱۹۹۹) میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی۔ اس کے مطابق، ،ہندستان ٹائمس کے ایڈیٹر وی این نارائنن (V. N. Narayanan) کا ایک مضمون ہندستان ٹائمس کے کالم میوزنگس (Musings) میں چھپا، وہ ایک ادبی سرقہ (Plagiarism) تھا۔ یہ ایک مغربی مصنف برائن ایپل یارڈ (Bryan Appleyard) کا مضمون تھاجس کو مسٹر نارائنن نے اپنے نام کے تحت لفظ بلفظ (verbatim) شائع کر دیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد جب اس ادبی سرقہ کا چرچا ہواتو مسٹر نارائنن نے ہندستان ٹائمس کی ادارت سے ضمیر کی بنیاد (conscience ground) پر استعفیٰ دے دیا۔ تاہم انھوں نے اپنے اس فعل کی توجیہہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ : میں خیالات کا ناقل ہوں اور جب میں کسی خیال کو کسی سے لفظ بلفظ لیتا ہوں تو میں ذاتی طور پر اس آدمی کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہوتا ہوں۔ میں مصنف کو اپنی ذات میں شامل کر لیتا ہوں۔ جب ایک خیال میڈیا میں آ جائے تو وہ عوامی ملکیت بن جاتا ہے:

I am a carrier of ideas and when I take an idea verbatim from someone, I am personally paying homage to the person who has expressed it. I personalise the author, I get into the person. Once an idea is expressed in the media it is public property. یہ بلاشبہ ایک جھوٹی توجیہہ ہے۔ اس دنیا میں غلطی کرنا صرف غلطی ہے۔ مگر غلطی کے بعد اس کی جھوٹی توجیہہ پیش کرنا بددیانتی۔ غلطی قابل معافی ہو سکتی ہے مگر بددیانتی (dishonesty) ہر گز قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page