Al-Risala · March 2000 · page 45

Center for Holistic Health and Meditation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

خبر نامہ اسلامی مرکز مرکز____۴۴

۱۔ نوبھارت ٹائمس (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اوم پرکاش تپس نے ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ موضوع تھا: اسلام اور تیوہار۔ بتایا گیا کہ اسلام میں عید اور عید الاضحیٰ کی ایک حیثیت مذہبی ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ سماجی میل اور انسانی تعلقات کی بہتری کا ذریعہ ہے۔

۲۔ انڈونیشیا (جکارتا) میں آنند آشرم کے نام سے میڈیٹیشن (Meditation) کے مقصد کے تحت ایک بڑا ادارہ قائم ہے جس کا پورا نام یہ ہے:

Center for Holistic Health and Meditation

اس ادارہ کے تحت ایک درجن افراد انڈیا آئے۔ وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وفد مسٹر آنند کرشنا کی قیادت میں ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو صدر اسلامی مرکز سے ملا۔ وہ اسلام کے بارے میں سمجھنا چاہتے تھے۔ ان کو تفصیل کے ساتھ اسلام سے متعارف کیا گیا۔ ایک گھنٹہ کی یہ پوری بات چیت انگریزی میں ہوئی جس کو انھوں نے ریکارڈ کیا۔

۳۔ ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو کیتھولک چرچ کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک اجتماع کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور وہاں مختلف مذاہب کے مشترک اجتماع میں ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے قرآن اور روحانیت کی اہمیت بتائی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ انسان پیدائشی طور پر امن اور روحانیت کی فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں صبر کی تعلیم اس لئے دی گئی ہے کہ یہ فطرت بگڑنے نہ پائے۔ ۴۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو تارا بھٹا چار جی، ممبر، کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری کمیشن کی رہائش گاہ پنج شیل پارک (نئی دہلی) پر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں کچھ بیرونی ملکوں کے لوگ بھی شریک تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کی سماجی تعلیمات پر ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تمام

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page