اہل ایمان
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۹
فضل سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی ہر سرگرمی خدا کی خوشنودی کی تلاش میں بدل جاتی ہے۔ . ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ آدمی کی اندرونی کیفیت اس کے چہرے پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ آدمی اندر سے خوش ہے یا غمگین، دونوں حالتوں میں اس کا چہرہ اس کی داخلی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص حقیقی معنوں میں سجدہ گزار ہو، اس کا وجود ایمان کی کیفیات سے بھر گیا ہو تو اس کے چہرے پر اس کے اثرات اس طرح ظاہر ہو جائیں گے کہ دیکھنے والا اس کے ظاہر سے اس کے باطن کو پڑھ سکے۔ یہ اہل ایمان کی انفرادی خصوصیات ہیں جن کا ذکر پیشگی طور پر تورات میں کیا گیا تھا۔ اصحاب رسول کی یہ صفت موجودہ تبدیل شدہ تورات میں قدسیوں (Saints) کے لفظ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ (کتاب استثناء باب ۳۳)
انجیل (مرقس، باب ۴) میں اس گروہ کے اجتماعی اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس اجتماعی خصوصیت کو مذکورہ قرآنی آیت کے آخر میں کھیتی یازرعی فصل کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح بتایا گیا ہے کہ سچے اہل اسلام خدا کی زمین میں درخت کی طرح اگتے اور بڑھتے ہیں۔ وہ پودے سے آغاز کر کے ہرا بھراباغ بن جاتے ہیں۔ اہل اسلام کا گروہ پودے کی صورت میں ایک ابتدائی مقام سے ابھرتا ہے۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں اور اہل باطل غیظ و حسد میں مبتلا ہو کر رہ جائیں کہ چاہنے کے باوجود وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
آیت کے آخری ٹکڑے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ مذکورہ انفرادی اور اجتماعی صفات میں پورے اتریں ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو مغفرت اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ یہاں مغفرت سے مراد آخرت کی کامیابی ہے اور اجر عظیم سے مراد دنیا کی کامیابی۔ آخرت کی کامیابی انہیں جنت کی صورت میں ملے گی اور دنیا کی کامیابی ملی و قارا ور فکری غلبہ کی صورت میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues