Al-Risala · April 2000 · page 10

ایک خواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰

ایک خواب

میری لڑکی ام السلام (پیدائش نومبر ۱۹۵۰) نے بہت پہلے ایک خواب دیکھا۔ اس وقت وہ نانڈیڑ میں تھی۔ اس نے خط کے ذریعہ ہم کو اس خواب سے مطلع کیا۔ ام السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ راقم الحروف کی کتاب الاسلام یتحدّیٰ انڈونیشیاکے صدر نے پڑھی ہے۔ بظاہر یہ خواب بالکل نا قابل قیاس تھا۔ تاہم اپنی عادت کے مطابق میں نے اس کو اپنی خواب کی ڈائری میں درج کر لیا۔ یہ خواب ام السلام نے جون ۱۹۷۸ میں دیکھا تھا۔ عجیب بات ہے کہ ۲۰ سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد یہ خواب حیرت انگیز طور پر بالکل درست ثابت ہوا۔

جنوری ۲۰۰۰ کے آخر میں نئی دہلی میں واقع انڈونیشیا کے سفارت خانہ سے ہمارے دفتر میں ٹیلی فون آیا۔ سفارت خانہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ انڈونیشیا کے موجودہ صدر پروفیسر عبدالرحمن وحید فروری میں انڈیا کے دورہ پر آنے والے ہیں۔ نئی دہلی کے قیام کے دوران وہ راقم الحروف سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ وہ باہمی دلچسپی (mutual interest) کے موضوعات پر مجھ سے بات کر سکیں۔ اس ٹیلی فون کے بعد انڈونیشی سفارت خانہ کے دو ذمہ دار مجھ سے ملے اور ملاقات کا پروگرام طے کیا۔ چنانچہ ۹ فروری کی شام کو چار بجے راشٹرپتی بھون میں میری ملاقات انڈونیشیا کے صدر پروفیسر عبدالرحمن وحید سے ہوئی۔

میں نے کبھی انڈونیشیا کا سفر نہیں کیا۔ چند سال پہلے تک میں پروفیسر عبدالرحمن وحید کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ عالمی طور پر بھی وہ زیادہ معروف نہ تھے۔ جب وہ صدر بنے تو عرصہ تک میڈیا میں ان کا نام عبدالرحمن واحد آتا رہا۔ ان کا صدر مملکت بننا اس لئے بھی نا قابل قیاس تھا کہ وہ ایک مدت سے اپنی دونوں آنکھوں سے تقریباً معذور ہیں۔ مگر یہ ایک انوکھی بات ہے کہ اس قسم کا ایک آدمی انڈونیشیا کا صدر بنتا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page