ایک خواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱
ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ صدر عبدالرحمن وحید نے عربی کی تعلیم جامعۃ الازہر قاہرہ میں حاصل کی ہے۔ وہاں انھوں نے میری دوسری کتابوں کے ساتھ الاسلام یتحدیٰ بھی پڑھی جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی زبان سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ میری تحریروں کے مطالعہ کے ذریعہ وہ میرے خیالات سے واقف ہوئے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے حاضرین میں سے ایک شخص سے میرے بارے میں کہا کہ بابری مسجد کے ایشو پر راقم الحروف نے جو موقف اختیار کیا وہ بہت جرأت مندانہ موقف تھا جس کی کوئی دوسری مثال موجودہ علماء میں مشکل سے ملے گی۔ ان کی اس بات سے اندازہ ہوا کہ وہ ہندوستان کے انگریزی اخبارات میں چھپنے والے میرے مضامین سے بھی باخبر ہیں۔ انھوں نے نہ صرف الاسلام یتحدیٰ جیسی کتاب پڑھی ہے بلکہ وہ میری عام تحریروں سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ اسی علمی واقفیت کی بنا پر انھیں مجھ سے دلچسپی ہوئی۔ انڈیا میں سرکاری سفر کے دوران اپنی غیر معمولی مصر وفیتوں کے باوجود انھوں نے میرے لئے ملاقات کا وقت پیشگی طور پر طے کر لیا جب کہ میں نے اس کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔
۱۹۷۸ کے ایک خواب کا ناقابل قیاس طور پر ۲۲ سال بعد پورا ہونا انتہائی عجیب ہے۔ یہ خواب بلاشبہ خدا کی طرف سے تھا۔ کیونکہ خدائے عالم الغیب ہی کو ۱۹۷۸ میں اس واقعہ کی خبر ہو سکتی تھی جو مکمل طور پر مستقبل کی تاریکی میں چھپا ہوا تھا۔
حدیث کے مطابق، خواب کی تین قسمیں ہیں ــــ تخویف الشیطان، (شیطان کا ڈراوا) حدیث النفس (دل کی بات) بشری من الله (اللہ کی طرف سے بشارت)۔ مذکورہ خواب میں کوئی ڈراوے کی بات نہیں۔ اس لئے وہ تخویف الشیطان نہیں ہو سکتا۔ اس کو حدیث النفس بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ایک چیز جو سرے سے معلوم ہی نہ ہو وہ کسی کے دل کی بات کیسے ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خواب بلاشبہ خدا کی ایک بشارت تھی۔ اس بات کی بشارت کہ یہ مشن عوام وخواص سب کے درمیان پھیلے گا حتیٰ کہ وہ ملکی سرحد سے نکل کر بیرونی ملکوں تک پہنچ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues