Al-Risala · April 2000 · page 13

کردار کا کرشمہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

کبھی تبادلہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک ہی کرسی پر لمبی مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت کے (A.D.M) کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ حسب قاعدہ تین سال کے اندر ہر ایک کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے مگر اقبال صاحب اپنی کرسی پر بدستور قائم ہیں۔ کیوں ان کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔ اے ڈی ایم مسٹر مہیشوری نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے ہم اقبال صاحب کا تبادلہ کر دیتے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ ہم کو اقبال کی جگہ دوسرا اقبال چاہئے۔ وہ یہاں بیک وقت کئی آدمیوں کا کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے حد درجہ پابند ہیں۔ وہ روزانہ تین ٹیلیفون کو سنبھالتے ہیں۔ ہم صرف اشارہ کر دیتے ہیں اور وہ انگریزی یا ہندی میں بہترین draft بنا کر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں اور ہمارا کام صرف دستخط کرنا ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ آپ ایک ایسا آدمی لائیے جو ان کی جگہ لے سکے۔ اس کے لئے ہم آپ کو دو دن کا وقت دیتے ہیں۔ مگر یہ شکایت کرنے والے ملازمین خود بھی اقبال صاحب کی اعلیٰ خصوصیات سے واقف تھے، چنانچہ وہ ان کی قائم مقامی کے لئے کسی اور آدمی کا نام پیش کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اور اقبال احمد صاحب اپنی سروس پر اسی عزت کے ساتھ آخر وقت تک باقی رہے۔

زندگی میں کامیابی کا راز اعلیٰ کردار ہے۔ اعلیٰ کردار کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ کوئی بھی تعصب یا سازش ایسے آدمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوسکتی جو اعلیٰ کردار کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔ اصل یہ ہے کہ ہر دفتری یا ہر ادارہ کو کارکنوں کی ضرورت ہے۔ اگر دس امیدوار ہوں اور سب کے سب برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں تو ایسی حالت میں یہ ممکن ہے کہ انتخاب کرنے والے لوگ کسی ایک کے حق میں جانب داری کا معاملہ کریں اور نو برابر کو چھوڑ کر ایک برابر کو لے لیں۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ان میں سے نو افراد برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایک امتیازی صلاحیت کا مالک ہو تو یقینی طور پر اسی ایک کے حق میں فیصلہ ہو گا جو امتیازی درجہ میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ کیوں کہ یہ ہر آدمی کی اپنی ضرورت ہے کہ اس کے پاس اعلیٰ درجہ کے کارکن موجود ہوں۔ امتیاز ہر تعصب اور جانب داری کی کاٹ ہے۔ صاحب امتیاز انسان کے لئے ہر سیٹ اس کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page