بمبئی کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰
یادگاروں کی حیثیت پہلے مسلم یادگار کی تھی۔ اب ان کی حیثیت سیاحوں کے مراکز کشش کی ہو گئی ہے۔
میگزین کے ہندی حصہ میں لکھنؤ کی روایتی کبوتر بازی پر بھی ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا ’’شوقیہ کبوتر بازی‘‘۔
میگزین میں ایک اورلمباباتصویر مضمون مانڈو کے بارے میں تھا۔ یہ ۱۴۔ ۱۵ ویں صدی میں مسلم مالوہ سلطنت کا مرکز تھا۔ یہاں مسلم عہد کی یادگاریں تقریباً پندرہ کلومیٹر کے رقبہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مانڈو میں ایک بہت بڑی مسجد ہے جو ۱۴۵۴ء میں بنائی گئی تھی۔ مضمون نگار نے اپنے مانڈو کے سفر کی روداد کے تحت لکھا تھا:
On your right you see the Jama Masjid (1454) which is one of the biggest such medieval structures with its huge colonnades, of ele- gant arches and pillars and domes of different dimensions. (p. 87) انگریزی روزنامہ مڈڈے(۱۶جون ۱۹۹۵) کے صفحہ اول پر ایک خبر آئیڈنٹٹی کارڈ کے بارے میں تھی۔ اخبار مذکورہ نے ایک سینیر افسر کے حوالے سے لکھا تھا کہ دہلی کے ۷۲ لاکھ آئیڈنٹٹی کارڈوں میں گیارہ لاکھ سے اوپر ناقص تھے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے دہلی کے چیف الیکٹورل افسر مسٹر ٹی ٹی جوزف نے کہا کہ ناقص کارڈوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم تھی۔ یہ تردید مجھے غلط معلوم ہوتی ہے۔ میں خود دہلی کا رہنے والا ہوں۔ میں نے اور میرے گھر والوں نے متعلقہ دفتر جا کر فارم پر کیا اور تصویر کھنچوائی۔ مگر مہینوں گزر جانے کے باوجود اب تک ہمیں آئیڈنٹٹی کارڈ نہیں ملا۔
آئیڈنٹٹی کارڈ کا اِشو کھڑاکرکے مسٹر ٹی این سیشن (چیف الیکٹورل کمشنر) ملک میں ہیرو بن گئے۔ مگر ایک سو کروڑ روپیہ خرچ کرنے کے بعد جو کارڈ تیار ہوئے ان میں زیادہ تر ناقص تھے۔ اور بہت سے تو ووٹروں کو سرے سے ملے ہی نہیں۔ جن میں سے ایک میری فیملی بھی شامل ہے۔ جہاز میں ایک معمر خاتون نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues