Al-Risala · April 2000 · page 21

بمبئی کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱

میں عورتوں کے لئے جو قوانین ہیں وہ قابل اصلاً ہیں۔ پھر ملا لوگ اصلاح کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عورتیں بس کچن میں پڑی رہیں۔

میں نے کہا کہ اسلام میں عزت اور حقوق کے اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ پلیس (مقام عمل) دونوں کا الگ الگ ہے۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔ چنانچہ جو عورتیں آزادی کے نظریہ کے تحت گھر سے باہر آتی ہیں وہ بھی باہر آکر عملی اعتبار سے اپنے ہی دائرہ کار میں رہتی ہیں۔ آپ دیکھئے، جہاز کے اندر جو عورتیں (ایرہاسٹس) ہیں وہ یہاں اگر بھی تو کچن ہی کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی حال ساری دنیا میں عورتوں کا ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کا نعرہ ہے کہ عورت تو، کافی نہ بیٹھو، پالیسی بناؤ۔ مگر اصلاح اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ پہلے وہ گھر کی کافی بناتی تھیں، اب جہاز کی کافی بنا رہی ہیں۔ پالیسی بنانا اب بھی ساری دنیا میں مردوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے انٹرنیشنل ایر لائن پیسنجرس اسوسی ایشن (IAPA)۔ کچھ عرصہ پہلے اس نے یہ بیان دیا کہ ہندوستانی پائلٹ ضروری تربیت اور ڈسپلن سے محروم ہیں جو نئے قسم کے ہوائی جہازوں کو چلانے کے لئے ضروری ہے:

Indian pilots lack necessary training and discipline to cope with the new generation aircraft's technology. اس پر ہندوستانی حلقوں میں بہت شور و غل ہوا۔ ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ مذکورہ ادارہ نے یہ بات محض اپنا انشورنس بزنس بڑھانے کے لئے کہی ہے۔ ایک پائلٹ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جدید طرز کے تمام جہاز تمام تر کمپیوٹر پر ہوتے ہیں۔ ان کو چلانا تو بہت آسان ہے۔ پائلٹ کو آنکھ بند کر کے صرف کمپیوٹر کی پیروی کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر جہاز میں کوئی پرابلم پیدا ہو جائے تو کمپیوٹر فوراً اس پرابلم کو بتاتا ہے اور وہی اس کا حل بھی تجویز کرتا ہے۔ تاہم مذکورہ ادارہ نے اپنے بیان کو واپس نہیں لیا۔

بمبئی ایرپورٹ پر میرے بھتیجے اظفر خاں کے علاوہ جناب ایم اے صدیقی، جناب اقبال احمد، جناب فاروق فیصل صاحبان موجود تھے۔ مسافروں کی اکثریت اپنے سامان کے لئے کنویر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page