Al-Risala · April 2000 · page 22

بمبئی کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲

بیٹ کے سامنے بھیڑ لگا کر کھڑی ہوگئی۔ میرے ساتھ صرف ایک دستی بیگ تھا۔ میں رکے بغیر چلتا ہوا باہر آگیا۔ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر ہوٹل میٹر و پلیس پہنچا۔ یہاں کمرہ نمبر ۳۰۳ میں قیام تھا۔

ہوٹل کا کمرہ مسلسل ایک اجتماع گاہ بنا رہا۔ رات اور دن ہر وقت لوگ آتے رہے اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ہوٹل کے کچھ کارکن یہ سمجھے کہ یہاں کوئی "بزرگ" آکر ٹھہرے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ بار بار آکر یہ کہتے رہے کہ میرے لئے دعا کیجئے۔ شادی کی وجہ سے میرے اکثر رشتہ دار اور عزیز بمبئی میں اکٹھا ہوگئے تھے۔ تاہم ان سے میری گفتگو خاندانی انداز کی کم اور مشن کے انداز کی زیادہ ہوئی۔ میرے بھائی عبد المحیط خاں (ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائرکٹر) فیض آباد سے آئے تھے۔ وہ تقریبا شروع سے الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں۔ ایک صاحب سے ان کا تعارف کراتے ہوئے میں نے کہا: یہ میرے بھائی بھی ہیں اور الرسالہ برادری کے ایک مستقل ممبر بھی۔ حسین احمد خاں صاحب پہلے مغربی طرز پر رہتے تھے اور ہمارے خاندان میں "الٹرا ماڈرن" مشہور تھے۔ ان کی والدہ صدیقہ خانم جو بہت مذہبی تھیں، ہمیشہ ان کے بارہ میں تشویش میں مبتلا رہتی تھیں۔ مگر یہاں ان کے چہرہ پر خوبصورت سفید داڑھی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اب وہ پوری طرح دین دار بن چکے ہیں۔ ایک موقع پر میں نے ان کی ترقی کی دعا کی تو انھوں نے کہا: آپ تو بس ہماری آخرت کے لئے دعا کیجئے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے بارہ میں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ نہیں معلوم کہ کب اس کا ذہن بدلے اور اس کے اندر انقلاب آجاۓ۔

عبد المحیط خاں انجینئر (۶۵ سال) نے اپنی تعلیم کے زمانہ کے کئی سبق آموز قصے بتائے۔ ۱۹۵۳ میں وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں انجینئرنگ کالج کے طالب علم تھے۔ ایک روز شہر میں وہ اپنی بہن (طیبہ مرحومہ) سے ملنے کے لئے گئے۔ واپس ہوئے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page