بمبئی کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳
یونیورسٹی گیٹ پر چوکی دار نے انھیں روکا۔ کیوں کہ قاعدہ یہ تھا کہ طالب علم تحریری اجازت کے بغیر 9 بجے رات سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا۔ اگر وہ بلا اجازت تاخیر کرے گا تو اس پر پچاس روپیہ جرمانہ ہو گا جو ۱۹۵۳ء میں ایک طالب علم کے لئے بڑی رقم تھی۔
چوکی دار نے رپورٹ کردی۔ اگلے دن صبح کو وہ یونیورسٹی کے پراکٹر مسٹر وی پی پانڈے کے یہاں حاضر ہوئے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے کہ کہیں ان کے خلاف کوئی سخت ایکشن نہ لیا جائے ۔ مگر مسٹر پانڈے نے ان کے بیان کو فوراً مان لیا اور کہا کہ میں تم کو جانتا ہوں تمہارا بیان ہی ہمارے اطمینان کے لئے کافی ہے۔
عبد المحیط خاں صاحب انجینئر نے زمانہ کے فرق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۵۰ میں میں اعظم گڑھ شبلی انٹر کالج میں پڑھتا تھا۔ میرے ایک ساتھی کا نام چندر بلی تھا۔ وہ ہندو رواج کے مطابق جنیو پہنتا تھا۔ ایک روز میں نے کہا کہ یہ کیا بے کار کا دھاگا تم لٹکائے رہتے ہو۔ یہ کہہ کر میں نے جینو کو جھٹکے کے ساتھ کھینچا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گیا۔ چندر بلی نے غصہ نہیں کیا بلکہ کہا: کہا:’’بھیوا،دوسراکوئی ایساکرتاتو آج میں اس کا خون کر دیتا" یہ مسٹر چندر بلی اب کیمیکل انجینئر ہیں اور گوالیار میں رہتے ہیں۔
یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ مگر آج کوئی مسلمان کسی ہندو کا جنیو نہیں توڑ سکتا۔ کل اور آج میں کتنا زیادہ فرق آچکا ہے۔
حسین احمد خاں صاحب پہلے بمبئی میں ایک دوا ساز ادارہ میں بڑے افسر تھے۔ ایک بار وہ بمبئی میں ایک مسلمان سے ملے۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس پر ان کا نام اس طرح چھپا ہوا تھا (Husain A. Khan)۔ یہ مسلمان خود اپنا نام مخفف صورت میں اس طرح لکھتے تھے جس سے مذہب کا اندازہ نہ ہو، (جیسے آر این باگڑ)۔ چنانچہ انھوں نے حسین صاحب کا کارڈ دیکھ کر تعجب کے ساتھ کہا: ایسا کھلا کھلا لکھ دیتے ہیں آپ، اس سے آپ کو کوئی پرابلم نہیں آتا“۔ حسین احمد صاحب نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے تو اب تک اس سے فائدہ ہی ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues