بمبئی کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴
حسین صاحب نے بتایا کہ بمبئی کی تین فرموں میں انھوں نے اچھے عہدہ پر کام کیا ہے۔ ہر جگہ انھیں ہمیشہ احترام ہی ملا ہے۔ انھوں نے اس کی کچھ تفصیلات بتائیں۔ شادی کے سلسلہ میں ایک انجینئر صاحب لکھنؤ سے آئے تھے۔ ان سے ہوٹل میں ملاقات ہوئی تو وہ سخت مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کی دعوت پر آپ لکھنؤ (اپریل ۱۹۹۵) گئے تھے، آپ جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ وہ اسلام دشمن لوگ ہیں۔ ان کے بلانے پر آپ لکھنؤ پہنچ گئے اور ان کے پروگرام میں شرکت کی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نہایت غصہ کی حالت میں دیر تک زور زور سے بولتے رہے۔ آخر میں میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں اور کافروں کے پاس جاتے تھے جو کہ خدا کے اور اس کے دین کے دشمن تھے۔ اگر آپ ان کے پاس نہ جاتے تو لوگوں تک حق کا پیغام کس طرح پہنچتا۔ آپ کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کن لوگوں کی دعوت پر گئے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں جا کر کیا بات کہی۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں نے لکھنؤ کے گنگا پرشاد میموریل ہال میں ۱۶ اپریل ۱۹۹۵ کو میرا پروگرام رکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا: ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل سیرت نبوی کے آئینہ میں۔ اس کو آپ اشتہارات میں اور لکھنؤ کے روزنامہ قومی آواز (۱۵ اپریل ۱۹۹۵) میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میری تقریر کا مکمل ٹیپ بھی موجود ہے۔ ندوہ کے بہت سے طلبہ اس جلسہ میں شریک تھے، ان سے بھی آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔ مذکورہ قسم کی سوچ صرف تنگ نظری کی پیداوار ہے۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ حتی کہ اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں۔
شکیل احمد خاں اور حسین احمد خاں دونوں میرے قریبی عزیز ہیں۔ وہ دہلی سے آئے تھے۔ حسین احمد صاحب نے بتایا کہ ہمارے ساتھ سونے کے زیورات تھے جن کی مالیت لاکھوں روپیہ کی تھی۔ ہم نے طے کر لیا تھا کہ ائیر پورٹ پر کوئی چیز نہیں چھپائیں گے بلکہ صاف صاف بتا دیں گے۔ چنانچہ انھوں نے کسٹم والوں کو بتا دیا کہ ہمارے پاس فلاں فلاں زیورات ہیں۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues