Al-Risala · April 2000 · page 25

بمبئی کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

پوچھا کہ اتنے زیادہ زیورات آپ کس لئے لائے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے لڑکے کی شادی ہے۔ اس میں دینے کے لئے ہم یہ زیورات لائے ہیں۔ اس صاف گوئی کا اثر کشم کے عملہ پر اتنا زیادہ ہوا کہ اس نے ان حضرات کے سامان تک نہیں کھلوائے اور کہا کہ کوئی حرج نہیں، جائیے۔ آپ کی شادی کی خوشیوں میں ہم بھی آپ کے ساتھ شریک ہیں۔

بمبئی کے اردو ہفت روزہ بلٹز نے اپنے شمارہ ۲۰ مئی ۱۹۹۵ میں میرا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا ایک نسخہ لا کر دیا۔ یہ انٹرویو مسٹر پرویز حفیظ نے کلکتہ میں لیا تھا۔ انٹرویو کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے مسائل کی واحد ذمہ داری نا اہل مسلم لیڈر شپ پر ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو بار بار ٹکراؤ کے راستہ پر چلا کر تباہ کیا۔ ان کو خود تو لیڈری ملتی رہی۔ اور مسلمان اپنی تباہی کی صورت میں اس کی مہنگی قیمت ادا کرتے رہے۔

ڈاکٹر انصار پیش امام (ملت نگر، بمبئی) نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ اب الرسالہ کی مخالفت کہاں ہے۔ جو لوگ پہلے تنقید کرتے تھے وہ خود اب الرسالہ کی پالیسی کے مطابق، اعراض کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں (روایت جناب فاروق فیصل صاحب)

اس قسم کی باتیں کئی لوگوں نے کہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چند سالوں کے اندر مسلم نقطہ نظر میں اتنا زیادہ فرق آچکا ہے کہ اس کو ہر جگہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج بر سر عام ایسی باتیں کہی جانے لگی ہیں جو کہ پہلے نجی مجلسوں میں بھی قابل برداشت نہیں ہوتی تھیں۔ بمبئی میں ”قیادت“ کے مسئلہ پر ایک سیمنار ہوا۔ اس میں تقریر کرتے ہوئے جسٹس قاضی صاحب نے کہا کہ بابری مسجد کو کسی اور نے نہیں گرایا۔ اس کو نام نہاد مسلم قائدین نے گرایا۔ وہ خم ٹھونک کر یہ کہتے رہے کہ مسجد کو گرا کر دیکھو۔ اس طرح انھوں نے فریق ثانی کو جوش دلایا اور انھوں نے جذبات میں بھڑک کر اس کو گرا دیا۔ ایک صاحب نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ : اس قسم کے انتہائی واقعات ہمیشہ اشتعال کی حالت میں ہوئے ہیں۔ اگر لوگوں کو اشتعال نہ دلایا جائے تو ایسے واقعات کبھی نہیں ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page