Al-Risala · April 2000 · page 26

بمبئی کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶

جناب ایم اے صدیقی الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ وہ مسٹر محمد علی جناح کے ساتھ رہ چکے ہیں۔ اب وہ الرسالہ سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ جناب فاروق فیصل صاحب نے ان کا ایک تاثر انھیں کے الفاظ میں اس طرح لکھ کر مجھے دیا: ”مسٹر جناح کی شخصیت کے کئی پہلو قابل اعتراض ہیں۔ لیکن یہ مولانا وحید الدین صاحب کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انھوں نے سوائے دو قومی نظریہ کے کبھی ان کے کسی اور پہلو پر اعتراض نہیں کیا۔ “ الرسالہ پڑھنے والوں کے اندر کس قسم کا ذہن بنتا ہے، اس کا اندازہ ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہوتا ہے۔ الرسالہ کے ایک سفر نامہ میں ایک بار چھپا تھا کہ جہاز میں قواعد سفر کا اعلان کرتے ہوئے اناونسر نے کہا کہ اس کو غور سے سنئے، اگر چہ آپ ایک مستقل مسافر ہوں: Listen it carefully even if you are a regular traveller. جناب فاروق فیصل صاحب نے بتایا کہ ایک روز وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ اس دوران اچانک انھیں مذکورہ فقرہ یاد آیا۔ انھوں نے اپنے دل میں کہا کہ اس کتاب کو احتیاط کے ساتھ پڑھو، اگر چہ تم اس کے مستقل قاری ہو:

Read it carefully even if you are a regular reader. جسٹس قاضی صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ لوگ جمع تھے۔ وہاں میں نے جنت کی تشریح میں کچھ باتیں کہیں۔ ایک بات یہ تھی کہ جنت میں بورڈم کبھی نہیں ہوگا۔ وہاں کی لذتوں سے آدمی پورے طور پر محظوظ ہوتا رہے گا۔

قرآن میں ہے کہ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور زیادہ بھی (یونس (۲۶) حدیث کے مطابق زیادہ سے مراد ان کو دیکھنا ہے (النظر الی وجہ الرحمن) القرطبی ۳۳۰/۸۔

ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ لذت کمال نوکی دریافت میں ہے۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت ہر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page