Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷
قسم کی نعمتوں میں ہوں گے۔ اس کے بعد انھیں اللہ کی ایک تجلی دکھائی جائے گی۔ وہ اتنی پر مسرت ہوگی کہ اہل جنت اس کو دیکھ کر دوسری نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ اس طرح ابدی طور پر ہوتا رہے گا (مشکوٰۃ المصابیح ۳/ ۱۵۷۲)
اس طرح اہل جنت کو خالق کائنات کے لامتناہی جلوے بار بار دکھائے جاتے رہیں گے۔ یہ نئے نئے تجربات انھیں کبھی بورڈم کا احساس نہیں ہونے دیں گے۔
جسٹس قاضی کی اہلیہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ قاضی صاحب نے بتایا کہ وہ اکثر مجھ کو نصیحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ : دولت مند کوئی شخص اچانک بھی بن سکتا ہے۔ مگر صاحب علم بننا برسہا برس کی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جسٹس قاضی نے مارک ٹوین کا ایک قول اس طرح بتایا کہ خاموشی ایک نا قابل برداشت جواب ہے:
Silence is unbearable repartee.
ایک صاحب سے الرسالہ مشن کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسٹر جناح سے لے کر مسٹر شہاب تک ہمارے لیڈروں نے جو سیاست چلائی، اس کے نتیجہ میں مسلمان اس ملک میں ایک قسم کا پروٹسٹنٹ گروپ بن گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلمانوں کو اس ملک میں حقیقی معنوں میں نکری ایٹیٹو گروپ کی حیثیت دے دیں۔
۱۸ جون کی شام کو ہوٹل کے کمرہ میں کچھ لوگ جمع ہوگئے۔ ان کی خواہش تھی کہ فقہی اختلاف کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے۔ میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تک اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔ لوگ مطمئن ہوگئے۔ اس گفتگو کا ٹیپ جناب فاروق فیصل صاحب کے پاس موجود ہے۔
۱۴ مئی ۱۹۹۵ کو ممبئی میں راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی کے چیف منسٹروں نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں کیشو بھائی پٹیل منوہر جوشی اور مدن لال کھورانہ کے علاوہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues