Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
گوپی ناتھ منڈے، جسونت سنگھ وغیرہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے متفقہ طور پر مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائے تا کہ پڑوسی ملک کو اپنے کرایہ کے سپاہیوں کے ذریعہ چرار شریف طرز کی گھناؤنی کارروائیوں سے باز رکھا جاسکے۔
چار ریاست کے ان چیف منسٹروں کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ کشمیر کا موجودہ سنگین مسئلہ "سبق سکھانے کی سیاست" ہی کے نتیجہ کی پیداوار ہے۔ یہ مسز اندرا گاندھی کا ذہن تھا۔ چنانچہ اسی سبق سکھانے کے لئے ۱۹۷۱ء میں وہ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ بنگلہ دیش کی جنگ میں باقاعدہ شریک ہوگئیں۔ اپنے خیال سے انھوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کرکے اس کو سبق سکھادیا تھا۔ مگر اس کے بعد پاکستان میں از سر نو انتقام کی نفسیات جاگ اٹھیں۔ اس نے دوبارہ ہم کو سبق سکھانے کے لئے کشمیر کا محاذ کھول دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۹۷۱ء سے پہلے پاکستانی عوام کشمیر کو تقریباً بھول چکے تھے مگر ۱۹۷۱ء کے بعد ان کے اندر دوبارہ ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑک اٹھے اور بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لئے انہوں نے پھر سے کشمیر کا محاذ کھول دیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن (۱۸ جون ۱۹۹۵) میں ایک مضمون مسٹر عبد الرحمن انتولے کے بارے میں تھا۔ اس میں ان کی پوری زندگی کو علم نجوم (ایسٹرولوجی) کی روشنی میں بیان کیا گیا تھا۔
عبدالرحمن انتولے ۹ فروری ۱۹۲۹ء کو مہاراشٹر کے ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۷۶-۸۰ء میں وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنے۔ ۱۹۷۷ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔ ۱۹۸۰-۸۲ء میں وہ مہاراشٹر کے چیف منسٹر تھے۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں مختلف اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ جون ۱۹۹۵ء میں وہ مرکز میں ہیلتھ منسٹر مقرر ہوئے۔ آخر میں درج تھا : His planets once elevated Antulay to the highest postition in life and he ruled the state like a Moghul king holding durbars. فاروق فیصل صاحب نے بمبئی کے انگریزی روزنامہ مڈ ڈے (Mid-day) کا شمارہ ۱۷جون ۱۹۹۵ دیا۔ اس میں بمبئی کے مشہور جرنلسٹ مسٹر ایم وی کامتھ کا ہفتہ وار کالم تھا۔ اس بار انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues