Al-Risala · April 2000 · page 29

Silence is unbearable repartee.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

میرے بارے میں لکھا تھا۔ اس کا پہلا پیرا گراف تھا:

بمبئی کے ایک جرنلسٹ مسٹر اقبال مسعود نے ٹائمز آف انڈیا میں شائع شدہ میرے ایک مضمون پر اپنا تبصرہ انگریزی اخبار پائیر (۲۹ مئی ۱۹۹۵) میں شائع کیا تھا۔ اس کے آخر میں انھوں نے لکھا تھا کہ بمبئی کے مسلمان میرے مشورہ کے مطابق، حقیقت پسندانہ سیاست کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہو چکے ہیں:

اس ”تبدیلی“ کے مختلف مظاہر بمبئی کے اس سفر میں دیکھے۔ ان ان میں سے ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بمبئی کے ایک صاحب نے یہ طے کیا ہے کہ وہ ہر مہینہ ایک بڑی رقم صرف اس لئے دیں گے کہ اس کے ذریعہ سے ماہنامہ الرسالہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ خدا کے فضل سے اس پر عمل در آمد شروع ہو گیا ہے۔

بمبئی سے ایک اردو ماہنامہ البلاغ کے نام سے شائع ہو تا ہے۔ اس کے شمارہ اکتوبر ۱۹۹۵ میں ایک مضمون میرے بارے میں چھپا تھا۔ مضمون نگار میرے اوپر ”تبصرہ“ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”جو حضرات اخبارات ورسائل میں مولانا کے اندازِ فکر اور طرزِ نگارش سے واقف ہیں ان کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ موصوف قرآن و حدیث کے احکام کو کس طرح قومی وملی مسائل پر چسپاں کر کے (مسلمانوں کو) مجہولیت و مفعولیت کا پیغام دیتے رہے ہیں“ (صفحہ ۲۶)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page