Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰
یہ میرے اوپر سر اسر اتہام ہے کہ میں مجہولیت اور مفعولیت کا سبق دیتا ہوں۔ میں نے اس قسم کی بات کبھی بھی الرسالہ میں نہیں لکھی۔ الرسالہ کے تمام قارئین جانتے ہیں کہ میں مسلمانوں کو جس چیز کا سبق دیتا ہوں وہ صبر و اعراض ہے اور صبر و اعراض بلا شبہ قرآن و سنت کی ایک اہم تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء صالحین ہمیشہ ملت کو صبر و اعراض کی تلقین کرتے رہے ہیں۔
الرسالہ میں صبر کو ایک اصول اسلام کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ صبر کو ایک اصول کے طور پر اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے مگر جب حالات کا دباؤ پیش آتا ہے تو یہی لوگ اس وقت صبر کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خود ماہنامہ البلاغ بھی ہے۔
ماہنامہ البلاغ (بمبئی) کے شمارہ جون ۱۹۹۵ میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:
"(قرآن میں ارشاد فرمایا صبر وا۔ یعنی صبر کو لازم پکڑو۔ سیاق کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور جھگڑوں سے بچنے کا کامیاب نسخہ بتایا گیا ہے۔ دوسروں کے ساتھ چلنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے اور نظر انداز کرنے کا عادی ہو۔ اسی صفت کا دوسرا نام صبر ہے۔ یہ ہر شخص جانتا ہے کہ نزاع بہت بری چیز ہے۔ مگر اس سے بچنے کا گر یہی ہے کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے کا خوگر بنے۔ "
ایک آئور کٹا سٹڑک سے گزرا۔ اس کے پیچھے ہندی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے میرا بھارت مہان، پر قرض سے پریشان۔
حال میں ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ ہندوستان کے بڑھے ہوئے قرضوں کی وجہ سے اس کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۷ جون ۱۹۹۵) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مرکزی وزیر مالیات مسٹر من موہن سنگھ نے اقرار کیا ہے کہ سودی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues