Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
قرضوں کی ادائیگی کی بڑھی ہوئی شرح کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماراخزانہ اس کی ادائیگی میں خالی ہو جاتا ہے:
The union finance minister, Mr. Manmohan Singh, has confessed that mounting interest payments are a drain on the exchequer. ایک کشمیری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میں نے انگریزی اخبار دی ایشین ایج کا شمارہ ۱۹ جون دکھایا۔ اس میں مرکزی وزیر داخلہ مسٹر ایس بی چوہان کا انٹرویو تھا۔ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نقطۂ نظر کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں نے اس وقت انڈیا سے الحاق کیا جب کہ انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انڈیا میں ان کو خصوصی درجہ (special status) حاصل رہے گا۔ ہم اس دعویٰ سے پھر نہیں سکتے جب تک کہ خود کشمیری عوام ہی کچھ اور چاہیں (صفحہ ۴)
میں نے کہا کہ کشمیر کو چاہئے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور جنگجوئی کا طریقہ چھوڑ کر گفت و شنید کی میز پر آجائیں۔ انڈین یونین کے اندر خصوصی درجہ کے اصول پر وہ ہندوستانی لیڈروں سے گفتگو کریں۔ کشمیریوں کے لئے یہی واحد صحیح راستہ ہے۔
اقبال مسعود صاحب بمبئی میں رہتے ہیں۔ دسمبر ۱۹۹۲ کے فساد کے وقت وہ بمبئی ہی میں موجود تھے۔ اس فساد کی بابت انھوں نے روزنامہ پانیئر (۱۳ جون ۱۹۹۵) میں لکھا تھا: On December 6, 1992, evening, an advocate, a stranger to me, rang me up from a muslim area: "Iqbal saheb, you do not know me. But here are some wild young men who want to attack po- lice stations tomorrow." I was taken aback but agreed to talk. I heard wild uncontrolled rage. "The police kept quiet at Babri Masjid when it was demolished. Now they should not object if we attack police stations."
چند دن پہلے ٹائمس آف انڈیا (۱۵ جون ۱۹۹۵) میں مسٹر ہر بنس کھیا کا ایک مضمون میرے بارہ میں چھپا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ اس کو پڑھ چکے تھے۔ اس میں مضمون نگار نے اعتراف کیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues