Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲
ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے اندر غیر معمولی تبدیلی آچکی ہے۔ یہ تبدیلی عین اس رخ پر ہے جس کے لئے میں لمبی مدت سے مسلسل کوشش کرتا رہا ہوں۔ مضمون نگار نے لکھا ہے:
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کا اصل مسئلہ ہندو۔ مسلم کشیدگی ہے۔ اسی کشیدگی نے سارے مسائل پیدا کئے ہیں۔ ۷۰ سال پہلے اقبال نے کہا تھا: مرابہنگر کہ درہندوستاں دیگر نمی بینی برہمن زادہ داناے رموز روم و تبریز است اقبال نے فخر کے ساتھ اپنے برہمن زادہ ہونے کا ذکر کیا مگر کسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ آج یہ حال ہے کہ اگر میں ہندوؤں کے کسی جلسہ میں شریک ہو کر وہاں اسلام کا تعارف پیش کروں تو لوگ اس کو الٹے معنوں میں لے لیتے ہیں اور میرے خلاف عیب زنی کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ ۱۹ جون کو صبح ۸ بجے مجھے ہوٹل چھوڑ کر ایرپورٹ کے لئے روانہ ہونا تھا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ دعا کرتے ہوئے خیال آیا کہ الرسالہ مشن کی کہانی کو ایک شمارہ کی صورت میں شائع کیا جائے۔ اس کا نام ’’روداد چمن‘‘ ہو اور اس کے نیچے یہ درج ہو: قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میراآشیاں کیوں ہو مسٹر ایم اے صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین آدمی ہیں وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ واپسی میں ایرپورٹ پر میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے تجربات حیات بتائیے۔ کافی اصرار کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues