Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
انہوں نے کاغذ پر یہ الفاظ لکھے: عمر کے اندر اس مرحلہ پر آکر میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ زندگی کا آغاز کر رہا ہوں، یعنی مفید اور کار آمد زندگی کا۔
بمبئی سے انڈین ایر لائنز کی فلائٹ ۱۸۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز ٹھیک مقرر وقت پر بمبئی سے روانہ ہوا۔ ۱۶ جون کی شام کو جب میں بمبئی پہنچا تو اناونسر نے اعلان کیا تھا کہ باہر کا درجہ حرارت ۲۸ڈگری ہے۔ واپسی میں جب میں دہلی پہنچا تو اناونسر نے کہا کہ باہر کا درجہ حرارت ۳۸ ڈگری ہے۔ بمبئی اور دہلی میں دس درجہ کا فرق تھا۔
اسٹیٹس مین (۱۹ جون ۱۹۹۵) میں ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی کامیابی کا راز ان کا ٹھنڈا انداز (cool approach) ہے۔ یہ بات نہایت صحیح ہے۔ خواہ کوئی شخص ملک کا وزیر اعظم ہو یا ایک عام آدمی ہو، ہر ایک کے لئے کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ ٹھنڈا مزاج آدمی کو بھر پور طور پر سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کی پوری صلاحیت کو استعمال کر کے صحیح ترین تدبیر اختیار کرے۔ اور جو لوگ ایسا کریں انھیں کوئی بھی چیز کامیابی سے روک نہیں سکتی۔
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلمان ہوائی جہاز کی صنعت میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی ہوائی کمپنی بن چکی ہے جس کا ہیڈ کوائر بمبئی میں ہے۔ اسی طرح مسلم نوجوان ہوائی جہاز کی سروس میں داخل ہو رہے ہیں۔ انھیں میں سے ایک مسٹر ابو انصاری ہیں۔ وہ پائلٹ ہیں اور بمبئی اور بھوپال کے درمیان پروازوں میں بطور ہواباز کام کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues