Al-Risala · April 2000 · page 34

Silence is unbearable repartee.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴

سوال

(1) قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو“ (بنی اسرائیل) اس آیت کو اگر اس کے سادہ معنوں میں لیا جائے تو اب تک جتنی آیات الٰہی کائنات میں ڈسکور (discover) ہوئی ہیں جس کو کہ پہلے لامعلوم تھیں وہ ڈسکور نہ ہوتیں۔ یا پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے۔ (۲) قرآن میں ہے : ”تم میں کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر وارد نہ ہو“ (مریم ۷) کیا اس آیت سے کوئی مستثنیٰ نہیں حتیٰ کہ پیغمبر اور صحابہ بھی۔ (عبد الشکور انجینئر، چمن ، بلوچستان)

جواب

ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں (بنی اسرائیل (۳۶) اس آیت کا تعلق کائنات سے نہیں ہے بلکہ انسان سے ہے۔ جہاں تک کائناتی حقیقتوں کا معاملہ ہے ان کا حکم دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے نہ کہ اس آیت سے۔ قرآن میں کثرت سے اس پر ابھارا گیا ہے کہ کائنات کی نشانیوں پر غور کرو۔ حتیٰ کہ کائنات میں غور وفکر کو ایمان کی ایک صفت قرار دیا گیا ہے اور وہ اسلام میں بے حد مطلوب ہے۔ اس سے مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں تک سورہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا تعلق ہے، وہ ایک اخلاقی ہدایت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے معاملہ میں حسن ظن سے کام لو۔ بدگمانی کا شکار ہو کر غیر ضروری ٹوہ میں نہ لگو۔ یہ عین وہی چیز ہے جو قرآن میں دوسری جگہ تجسس کہا گیا ہے اور اس کو سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے (الحجرات ۱۲)

سورہ مریم (آیت ۷۱) میں آخرت کے جس تجربہ کا ذکر ہے اس کی تشریح تذکیر القرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں ورود کا مطلب دخول نہیں بلکہ اس کا مطلب مرور ہے۔ یعنی تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے، نہ کہ اس کے اندر داخل ہوں گے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کو جسر ( پل ) جیسا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page