بیسویں صدی کا جائزہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں اخلاقی اقدار اور سیاست کے درمیان میں یہ جدائی خاموش عمل کے طور پر نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اعلان اور اشتہار کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ برائی امریکی سماج میں اگر خاموش عمل کے طور پر ہوتی تو وہ امریکہ کے لئے کچھ اور زندگی کی ضمانت بن سکتی تھی جیسا کہ قدیم بادشاہوں کے ساتھ پیش آیا۔ مگر اس کو علی الاعلان اختیار کر کے امریکہ نے اپنے زوال کے سفر کو بہت زیادہ تیز کر دیا ہے۔ کوئی بھی نظام اخلاقی صفات سے محروم ہو کر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور امریکہ یقینی طور پر اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
تیسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً سوسال کی جدوجہد کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزادی آئی۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان ورلڈ لیڈر بنے گا۔ مگر عملاً کیا ہوا۔ یہ ملک لمبی مدت سے اونچی ذات اور نیچی ذات کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر اونچی ذات والوں نے آزادی کو ہائی جیک (hijack) کر لیا۔ یہی لوگ آزادی کے بعد سے مسلسل ملک کے اوپر حکومت کر رہے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ملک کو ایسا نظام دینے میں نا کام ثابت ہوئے ہیں جو مہاتما گاندھی کے الفاظ میں ”ہر آنکھ کے آنسو پونچھنے والا ہو۔ “ اس نا کامی کا سبب بالکل واضح ہے۔ ملک کے اونچے طبقہ (upper cast) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے وہ ایک ایسی محدود آئیڈیالوجی ہے جو پوری انسانیت کو اپنے دامن میں نہیں لیتی۔ اس آئیڈیا لوجی میں اونچی ذات والوں کے لئے تو باعزت جگہ ہے۔ مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آئیڈیالوجی کے مطابق، ہر آدمی جس حال میں ہے وہ خود اس کی اپنی ہی پچھلی زندگی کا لازمی اور ناقابل تقسیم نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غریب اور مظلوم ہیں وہ فطرت کے جبری نظام کے تحت خود اپنے ماضی کے کردار کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ انھیں زندگی کے آخری لمحہ تک اس نتیجہ کو بہر حال بھگتنا ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ملک کے نصف سے زیادہ حصہ کو اونچی ذات کے حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا کیس بنا دیتی ہے جس پر رحم کرنا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues