It is like transfering of seat from God to man.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶
جہاد نہیں کہا جا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں مختلف ملکوں میں جہاد کے نام پر جو لڑائیاں جاری ہیں ان میں کوئی بھی ان شرطوں پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ان کو قومی لڑائی کہا جائے گانہ کہ اسلامی جہاد۔
۵۔ فادر اگنل آشرم، بمبئی کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ وہاں ۲۱ جنوری ۲۰۰۰ کو آشرم کے سالانہ پروگرام میں خطاب کیا جس کا موضوع تھا: انٹر فیتھ ڈائیلاگ۔ تقریر میں بتایا گیا کہ اختلاف کے باوجود مختلف مذاہب کے لوگوں کو پرامن طور پر رہنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اختلاف اور فرق زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے عقیدہ پر عمل کریں اور دوسرے کا احترام کریں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بمبئی میں مسلمانوں کے مختلف اجتماعات میں بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
۶۔ انگریزی ہفت روزہ (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر سید نے ۳ فروری ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان کی مسیحی اقلیت اور مسلم اقلیت سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ صحافت کو چاہئے کہ وہ واقعات کو نہ گھٹائے اور نہ بڑھائے بلکہ ٹھیک ٹھیک رپورٹ کرے ۔ اس سے غلط فہمی ختم کی جاسکتی ہے۔
۷۔ جامعہ ریاض الاسلام اور جامعہ ریاض البنات کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد کا سفر کیا۔ اور حیدر آباد میں کئی ملی اور دعوتی پروگرام ہوئے ۔ اس سفر کے دوران محبوب نگر میں جامعہ سراج العلوم کے جلسہ میں بھی شرکت کی اور خطاب کیا۔ یہ سب پروگرام ۶ فروری تا ۸ فروری ۲۰۰۰ کے دوران ہوئے۔ اس سفر کی تفصیل انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۸۔ مسٹر اشوینی گڈونے ۹فروری ۲۰۰۰کو دوردرشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور جہاد سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد سے مراد
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues