Al-Risala · January 2000 · page 31

نئے گروہ کی ضرورت

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱

پیدائش کے اس جبری نظریہ نے اونچی ذات کے حکمرانوں کو جو آئیڈیا لوجی دی وہ ایک محدود آئیڈیالوجی تھی۔ اس محدود آئیڈیالوجی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حکمرانوں کے دل میں وسیع تر انسانیت کے لئے نرم گوشہ پرورش نہ پاسکا۔ ان کے لئے آزادی صرف اس بات کا موقع بن گئی کہ وہ سب کچھ اپنے لئے جمع کر لیں اور دوسروں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں ، کیونکہ دوسرے لوگ اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ محروم رہ کر اپنے پچھلے دور حیات کی غلطیوں کی سزا پائیں اور اسی حال میں مر کر وہ اس دنیا سے چلے جائیں۔

نئے گروہ کی ضرورت

حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ قیادت کی دعویدار تمام قومیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک نیا اور تازہ دم گروہ ابھرے جو اس خلا کو پر کرے ، جو آنے والی اکیسویں صدی کو حقیقی معنوں میں انسان کے لئے ایک نئی اور بہتر صدی بنا دے۔

میرے اندازے کے مطابق یہ نیا گروہ ہندوستانی مسلمانوں کا گروہ ہے۔ تقریباً ٦٠ مسلم قوموں میں ، ہندوستانی مسلمان استثنائی طور پر اس خصوصیت کے مالک ہیں کہ وہ انڈونیشیا کو چھوڑ کر سب سے بڑے عددی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیلنج انسانی ترقی کی لازمی شرط ہے ، اور یہ شرط اپنی پوری صورت میں موجودہ دور میں صرف ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں پوری ہورہی ہے۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان ہی اس حالت میں ہیں کہ قانون فطرت کے تحت ان کے اندر وہ تخلیقی اور تعمیری اوصاف پیدا ہوں جو کسی قوم کو اس دنیا میں قیادت کا اہل بناتے ہیں۔

علامہ اقبال اور مسٹر محمد علی جناح نے غالباً ہندوستانی مسلمانوں کو اسی تعمیری رول کے لئے کھڑا کرنا چاہا مگر انھوں نے اس کے لئے جو تدبیر اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کے لئے علیحدہ پاکٹ (پاکستان) بنانا ان کے لئے اس قسم کا موقع دینے والا ثابت ہو گا مگر برعکس طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page