Al-Risala · May 2000 · page 6

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۶

دہلی ائرپورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہندو۔ مسلم جھگڑے کی جڑ یہ ہے کہ آپ لوگ صرف اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ اگر آپ لوگ بھی ہماری طرح یہ مان لیں کہ اسلام بھی سچا ہے اور ہندو مذہب بھی سچا تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بہت پرانا ہے۔ اسی کو فارسی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام۔ مگر یہ ایک غیر فطری فارمولہ ہے۔ میں نے کہا کہ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ جب آدمی ایک مذہب کو اختیار کرتا ہے تو یہ سمجھ کر اس کو اختیار کرتا ہے کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ اس طرح کی دریافت لازمی طور پر یقین چاہتی ہے۔ ”ہر مذہب سچا ہے“ کہنا خود مذہب کی نفی ہے۔ کیوں کہ سچائی صرف ایک ہو سکتی ہے۔ اس قسم کا نظریہ بے یقینی پر مبنی ہے اور انسان بے یقینی کے اوپر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا زیادہ درست حل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مذہب کو سچا سمجھے اور دوسرے مذہبوں کا احترام کرے۔ یہی اس معاملہ کا فطری حل ہے۔ دہلی ائر پورٹ سے انڈین ائرلائنز کی جو بس ہم کو لے کر جہاز کی طرف چلی اس میں ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ بس کے اندر میرے قریب ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ بس کی روانگی سے دو منٹ پہلے وہ اچانک اٹھا اور تیزی سے باہر چلا گیا۔ آج کل کے حالات کے لحاظ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ بس کے اندر کوئی بم نہ چھوڑ گیا ہو۔ میں دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگا۔ میری یہ کیفیت اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ بس ہوائی جہاز کے پاس نہ پہنچ گئی اور میں اس سے اتر کر باہر نہ آگیا۔

یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر غلط فہمی بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔ غلط فہمی پر یقین کر لینا اکثر حالات میں ایک ایسی چیز پر یقین کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے جس کا واقعہ کی دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں۔

۶ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو جب کہ انڈین ائرلائنز کا جہاز مجھ کو لے کر تیزی سے فضا میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page