Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۷
از رہا تھا، ایک واقعہ گزرا جس کے بعد بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو امڈ آئے اور فانی بدایونی کا یہ شعر میری زبان پر آگیا:
میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا میری عمر اب ہجری کیلنڈر کی رو سے ۸۰ سال ہو رہی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں ایسا درجنوں بار ہوا کہ میں نے کسی دل پسند چیز کی طرف مڑنا چاہا مگر خدا نے مداخلت کر کے مجھے کسی بظاہر غیر پسندیدہ چیز کی طرف موڑ دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری عمر خدا کے فرشتے میرے ساتھ رہے ہیں تاکہ میں کسی اور موڑ کی طرف نہ مڑوں بلکہ خدا کے طے کردہ منصوبہ کے مطابق ایک ہی رخ پر چلتا رہوں۔ یہ بڑا عجیب معاملہ تھا جو میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ پیش آیا۔
راستہ میں جہاز کے اندر انڈین ائرلائنز کافلائٹ میگزین سواگت (فروری ۲۰۰۰) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون حیوانات کے بارے میں تھا جس کا عنوان یہ تھا: Wild Encounters اس کے مضمون نگار مسٹر اندر راج اہلو والیا تھے۔ انھوں نے رنتھمبور نیشنل پارک کی سیاحت کی۔ اس اوپن پارک میں انھوں نے مختلف قسم کے جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھا۔ انھوں نے اپنے ان مشاہدات کو دس صفحہ کے ایک با تصویر مضمون میں بیان کیا تھا۔ اس مضمون کا ایک حصہ شیر کے بارے میں تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ وہ اور دوسرے ۵۰ سیاح چند گاڑیوں پر ایک راستہ سے گزر رہے تھے کہ ایک کھلے مقام پر انھیں ایک شیر ملا۔ یہ شیر راستہ کے کنارے لیٹا ہوا تھا۔ خارجی دنیا سے بے پروا وہ اپنے آپ میں مطمئن نظر آتا تھا۔ یہ ایک نر شیر تھا۔ اس نے ہمارے قافلہ کو اس طرح ٹالریٹ (tolerate) کیا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا:
And then, finally we saw him, lying full stretch just off the track, at ease with himself, a big male tiger that tolerated us more than I had imagined possible.