Al-Risala · May 2000 · page 8

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۸

جہاز اپنے وقت پر حیدر آباد پہنچا۔ اس بار یہاں کے ائرپورٹ پر کچھ نئی چیزیں دکھائی دیں۔ میں نے اخباروں میں پڑھا تھا کہ حیدر آباد کے ائرپورٹ کو ماڈرنائز کیا گیا ہے۔ اس بار اس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ ’’ائرپورٹ‘‘کی کی سطح پر انڈیا ترقی کر رہا ہے لیکن ”بیل گاڑی“ کی سطح پر ملک ابھی تقریباً وہیں ہے جہاں وہ پچاس سال پہلے تھا۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ انڈیا کی ۷۵ فیصد آبادی ابھی تک انہیں قدیم حالات میں رہتی ہے جہاں اب بھی زندگی کا سفر بیل گاڑیوں کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔

حیدر آباد ایئر پورٹ پر کئی لوگ موجود تھے۔ حبیب بھائی حیدر آباد سے باہر تھے۔ چنانچہ ان کی نمائندگی ان کے صاحبزادے محمد احمد صاحب نے کی۔ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر حبیب بھائی کے مکان (بیگم پیٹ)پر پر پہنچا جو ہوائی اڈہ سے قریب ہے۔ یہاں بہت سے ساتھی اکٹھا ہو گئے اور ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔

مولانا اسحاق کمال صاحب کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا میں انسان بظاہر مکمل طور پر با اختیار ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ اتنا ہی مجبور ہے جتنا کہ سورج، چاند اور دوسری مادی چیزیں۔ اس دنیا کی ہر چیز کامل عجز کے مقام پر ہے۔ انسان کو بھی اسی کا ثبوت دینا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دوسری چیزیں مجبورانہ عجز کے مقام پر ہیں جب کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اختیاری عجز کا ثبوت دے۔ وہ خدا کی قدرت کاملہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کامل کا ادراک کرے۔ میں نے کہا کہ انسان کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ شعور قدرت کے مقابلہ میں شعور عجز کی دوسری انتہا (extent) بناتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ داعی جب دوسروں کو خطاب کرتا ہے تو گویا کہ وہ دوسرے سے یہ مطالبہ کر رہا ہوتا ہے کہ تم حق کا اعتراف کرو۔ ایسی حالت میں داعی کا عمل اسی وقت پوری طرح نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب کہ وہ خود اعتراف کا ثبوت دے چکا ہو۔ دعوت کا عمل اعتراف خویش سے شروع ہوتا ہے اس کے بعد وہ اعتراف غیر تک پہنچتا ہے۔ جو داعی خود بے اعترافی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page