Al-Risala · May 2000 · page 9

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۹

کی سطح پر جی رہا ہو اس کہ دعوتی کلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کی لیڈری ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر لوگوں سے دیر تک اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب حیدر آباد کے اور پورے ملک کے مسلمان عملاً آپ ہی کا فارمولہ پر چل رہے ہیں۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو زبان سے اس کا اعتراف کرتے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ وہ فارمولہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود آپ کے الفاظ میں وہ فارمولہ یہ ہے۔ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا۔

ڈاکٹر محمد ظہیر احمد (پیدائش ۱۹۶۳) سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے ایک عالم کا نام لیتے ہوئے کہا کہ میں نے ان کی تقریر سنی۔ ان کی ایک بات مجھے پسند آئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو غیر مسلموں سے مل کر رہنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں، کیوں کہ مجھے اس قول میں بزدلی کی بو آتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ مل کر رہنا چاہئے مگر اس کا سبب ہندوستان کے مخصوص حالات نہیں ہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی انسانیت کا اعلیٰ اصول ہے اور یہی اسلام کا تقاضہ بھی۔ مل کر رہنے کی روش ہم کو بر بنائے اصول اختیار کرنا ہے نہ کہ بر بنائے مصلحت۔ محمد عبدالروف صاحب (پیدائش ۱۹۲۵) الیکٹری سٹی بورڈ حیدر آباد میں ملازم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بورڈ کے احاطہ میں ملازمین کی سہولت کے لئے ایک مسجد اور ایک مندر کی تعمیر کی گئی۔ ایک سال پہلے مسجد کے اوپر پلاسٹک کی شیٹ ڈالی ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس پر آر سی سی کی باقاعدہ پختہ چھت بنائی گئی۔ چھت کا اصول یہ ہے کہ تعمیر کے بعد اس پر پانی ڈالنا بہت ضروری ہے، ورنہ چھت کمزور ہو جاتی ہے۔ اتفاق سے اگلا دن اتوار کا تھا، کوئی مسلمان وہاں پانی ڈالنے کے لئے نہ پہنچ سکا۔ وہاں پاس ہی مندر کا ہندو پجاری رہتا ہے۔ اس نے جب دیکھا کہ چھت پر پانی ڈالنے کے لئے کوئی نہیں پہنچا ہے تو وہ خود پائپ لے کر چھت کے اوپر چڑھا اور حسب قاعدہ اس نے چھت پر اپنے ہاتھ سے پانی ڈالا۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ یہ ہندو اور مسلم کی بات نہیں بلکہ یہ فطرت کی بات

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page