Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰
ہے۔ حدیث کے مطابق، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ فطرت بیس پیدائشی طور پر یہ بات شامل ہے کہ ایک دوسرے کی خدمت کی جائے۔ یہ فطری جذبہ ہر ہندو اور ہر مسلمان کے اندر ہے۔ وہ پیدائشی طور پر موجود رہتا ہے۔ بیس نے اپنی نوجوانی کی عمر میں دیکھا ہے کہ اس ملک کا ہندو اور مسلمان اسی فطرت پر جی رہا تھا۔ ہر ایک دوسرے کے کام آکر خوش ہوتا تھا۔ مگر اس کے بعد یہ ہوا کہ ہندوستان میں انتہائی نااہل اور عاقبت اندیش لیڈر اٹھے۔ انھوں نے نفرت کی بولی بول کر ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو فطرت سے ہٹا دیا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ جھگڑے آپ دیکھ رہے ہیں وہ فطرت سے اسی انحراف کا نتیجہ ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ان نااہل لیڈروں نے میرے نزدیک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ وہ جرم ہے اپنی بے جامد اخلت سے خدا کے قائم کئے ہوئے فطری نظام کو بگاڑنا۔ حیدر آباد سے کئی اخبار نکلتے ہیں۔ ان میں سے ایک روزنامہ سیاست ہے۔ سیاست کے شمارہ ۶ فروری ۲۰۰۰ میں ایک خبر اس طرح تھی: تھی:قونصل جنرل عزت مآب افضل امان اللہ صاحب نے بتایا کہ امسال ایک لاکھ میں ہزار ہندوستانی حجاج کرام حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے جدہ تشریف لائیں گے۔ یہ تمام حجاج کرام ہندوستان کے مختلف شہروں سے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہو کر جدہ انٹرنیشنل ائرپورٹ پراتریں گے۔ (صفحہ ۲)۔ اس خبر سے معلوم ہوا کہ اس سال ہندوستانی حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ میں ہزار ہے۔ یعنی تقریباً اتنی ہی جتنی کہ حجۃ الوداع کے موقع پر اصحاب رسول کی تعداد تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب کو یہ ہدایت کی کہ تم لوگ تمام اقوام عالم کو میری طرف سے اسلام کا پیغام پہنچادو۔ میں نے سوچا کہ پیغمبر اسلام کی یہ آواز آج بھی حجاز کی فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ اگر یہ حاجی وہاں پہنچ کر اس آواز کو سن سکیں اور صحابہ کی طرح اس کی پیروی کریں تو دوبارہ جدید تاریخ میں اسلام کی توسیع واشاعت کا وہی کام انجام پانے لگے جو دور قدیم میں انجام پایا تھا۔
حیدر آباد آندھرا پردیش کی راجدھانی ہے۔ یہاں کے قیام کے دوران بار بار اس کے