Al-Risala · May 2000 · page 11

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱

مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ شہر ہراعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آیا۔ یہاں کے مسلمان بھی تقریبا سب کے سب ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ۵۰ سال پہلے پیدل یا بائسکل پر چلتے تھے۔ اب ان کے گھر کے سامنے موٹر کار کھڑی ہوئی ہے۔ ایک مسلمان جن کے والد صاحب قدیم حیدر آباد میں صرف ایک بوسیدہ مکان میں رہتے تھے۔ آج انہوں نے پانچ منزلہ شاندار بلڈنگ کھڑی کر لی ہے۔ ایک اور مسلمان جن کے دادا صاحب نے قدیم حیدر آباد میں کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں زندگی گزاری، آج شہر میں ان کے چار بڑے بڑے مکانات ہیں۔ ایک اور مسلمان جن کے والد معمولی سروس کرتے ہوئے وفات پا گئے آج وہ ایک بڑی فیکٹری کے مالک ہیں۔ قدیم حیدر آباد میں صرف چند تعلیمی اور اسلامی ادارے تھے آج یہاں درجنوں کی تعداد میں بڑے بڑے تعلیمی اور اسلامی ادارے قائم ہیں، وغیرہ۔ میں نے ۱۹۴۷ء سے پہلے کے حیدر آباد کو بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ء کے بعد کے حیدر آباد کو بھی۔ پچھلے سو سال کے درمیان حیدر آباد کی مسلم سیاست کا خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ صرف ایک ہوگا۔ یہاں کی مسلم ریاست کو کسی نہ کسی طرح بر قرار رکھنا۔ حتی کہ ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور کے لئے بھی مسلمان یہی نا قابل عمل خواب دیکھتے رہے کہ وہ اس ریاست کو ایک علیحدہ مسلم ریاست کے طور پر باقی رکھ سکیں ۔ جب قانون فطرت کے تحت ایسا نہیں ہوا تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والوں نے شکایت اور احتجاج کی زبان میں لکھنا اور بولنا شروع کر دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مسلم ریاست کے دور کے مقابلہ میں آج حیدر آباد کے مسلمان سو گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا سادہ سبب یہ ہے کہ مسلم ریاست کے دور میں ہر مسلمان ریاست کے اوپر تکیہ کئے ہوئے تھا۔ ہر مسلمان کی آخری خواہش یہ ہوتی تھی کہ ”حضور نظام“ کی حکومت میں اس کو کوئی ملازمت مل جائے۔ نئے انقلاب نے اس بھروسہ کو توڑ دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے اندر ذاتی اعتماد جاگا۔ اب ہر مسلمان ذاتی کوشش کے میدان میں سر گرم ہو گیا۔ اسی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page