Al-Risala · May 2000 · page 12

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲

خود اعتمادی کا نتیجہ وہ ترقی ہے جو آج یہاں کے مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کار از خود اعتمادی ہے، نہ کہ کسی کا سیاسی یا غیر سیاسی سہارا۔

۶ فروری کو نماز ظہر کے بعد جامعہ ریاض البنات، ملک پیٹ،حیدرآباد میں خطاب ہوا۔ اس خطاب کے لئے جناب ریاض موسی صاحب مالاباری نے یہ موضوع تجویز کیا تھا ’’ہندوستان میں دعوت اسلام کی حکمت عملی‘‘۔ اس موضوع پر تقریبا ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا: اس ملک میں دعوت کے مواقع اتنے ہی ہیں جتنے کہ کسی اور ملک میں۔ اس سلسلہ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب سے پہلے بر صغیر ہند میں یہ حال تھا کہ ہر دن ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد یہ پراسس رک گیا۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کی تفریقی سیاست تھی۔ میں نے کہا کہ قومی تفریق کا نظریہ سراسر غیر اسلامی نظریہ ہے۔ ہمارا کام تمام لوگوں کو ایک خدا کے دین رحمت میں لانا ہے نہ کہ انہیں مختلف انسانی گروہوں میں تقسیم کرنا۔ جناب ریاض موسیٰ صاحب خالص دعوتی مزاج کے آدمی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پہلے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ دعوت کا خطاب سب سے پہلے قوم کے بڑوں سے ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اس واقعہ کا حوالہ دیا کہ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مکہ کے سردار عتبہ بن ربیعہ کے سامنے قرآن سے حم السجدہ کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ (سیرۃ ابن ہشام ۱/ ۳۱۳) یہ واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے حاضرین سے یہ سوال کیا کہ آج کا عتبہ کون ہے جس کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا جائے۔ ایک شخص نے بلند آواز سے کہا کہ اٹل بہاری باجپئی۔ جناب جناب ریاض موسیٰ صاحب نے کہا کہ پھر کیا آپ نے آج کے عتبہ کو قرآن کا پیغام پہنچایا ہے۔ اس پر لوگ خاموش رہے۔

میں جب اسٹیج پر آیا تو میں نے اپنی تقر یراسی بات سے شروع کی۔ میں نے کہا کہ اللہ کی توفیق سے مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ میں آپ کے بقول، وقت کے عتبہ کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کروں۔ میں نے بتایا کہ نئی دہلی کے فلکی آڈیوریم میں ایک جلسہ تھا جس میں شہر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page