لائحہ عمل
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲
اس تدبیر نے ان مسلمانوں کو چیلنج کے ماحول سے محروم کر دیا، جب کہ چیلنج کا ماحول ہی کسی بڑے انسانی عمل کے ظہور میں آنے کی لازمی شرط ہے۔
تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان کے کچھ مسلم لیڈروں نے اس سلسلہ میں ایک نیا منصوبہ بنای۱۔ انھوں نے چاہا کہ مسلم ۔ دلت اتحاد قائم کریں اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ طاقت ور حیثیت دے کر انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ ملک میں کوئی بڑا رول ادا کر سکیں ۔ مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی پہلی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ مسلم ۔ دلت اتحاد کا مقصد صرف مسلمانوں کے لئے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ وسیع تر ملکی مفاد اس کا حقیقی نشانہ نہیں تھا۔ اور اس قسم کی محدود اسکیم کسی بھی مشترک سماج میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی شامل ہو۔ محض اپنی خیر خواہی کی بنیاد پر بنایا ہوا منصوبہ قانون فطرت کے خلاف ہے اس لئے اس کا کامیاب ہونا بھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔
لائحہ عمل
حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں وہ اسٹیج مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے جس کو استعمال کر کے مسلمان اپنا تاریخی رول ادا کر سکیں ۔ تاہم کوئی بڑا تاریخی رول صرف اس وقت ادا کرنا ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کی تمام ضروری شرائط پوری کی گئی ہوں، شرائط کی تکمیل کے بغیر اسباب کی اس دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔
عملی پروگرام
ا۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس پورے معاملہ کو خالص انسانی نقطہ نظر سے دیکھیں ۔ وہ جو کچھ کریں عمومی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کریں ۔ اپنی گروہی برتری کا قیام یا اپنے حقوق کا حصول جیسے ذاتی مقاصد کو لے کر اگر کوئی جد و جہد شروع کی گئی تو پیشگی طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کسی بھی مثبت یا قابل لحاظ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی ۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت دوسروں کے حق میں خیر خواہی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues