Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳
کے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس پروگرام میں صرف دو مقرر تھے۔ ایک، ،اٹل بہاری باجپئی۔ اور دوسرا مقرر میں تھا۔ پہلے مجھ کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تک خالص اسلام پر تقریر کی۔ میں نے قرآن کی آیت: وما ارسلناك الا رحمة للعالمين کو اپنا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ اسلام ایک رحمت کلچر ہے۔ میں نے قرآن اور حدیث اور سیرت کے حوالے سے بتایا کہ اسلام کس طرح سارے انسانوں کے لئے رحمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری تقریر کے بعد اٹل بہاری باجپئی اسٹیج پر آئے۔ ان کی تقریر زیادہ تر سیاسی انداز کی تھی۔ تاہم انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں میری تقریر پر مختصر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا: مولانا صاحب، یہ وچار منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں۔ ۔ اٹل بہاری باجپئی نے یہ بات اپنے مخصوص انداز میں کہی۔
اٹل بہاری باجپئی کا یہ تبصرہ بتاتا ہے کہ انہوں نے میری تقریر کو پوری طرح سنا اور سمجھا۔ انہیں اس میں واضح طور پر اسلام کی دعوت نظر آئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس تقریر کے ذریعہ میں حاضرین کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کر رہا ہوں۔ جس کو انہوں نے سادہ طور پر نہیں لیا، بلکہ اس کو پرچار (تبلیغ) کے ہم معنی سمجھا۔
جامعہ ریاض البنات میں اپنی تقریر ختم کر کے میں اسٹیج سے اترا تو ایک باریش بزرگ نے مجھے دو کتابیں پیش کیں۔ یہ دونوں کتابیں میری مخالفت میں لکھی گئی تھیں۔ میں نے ان کتابوں کو لیتے ہوئے کہا کہ میں ان کتابوں کو پڑھ چکا ہوں۔ یہ غیر علمی کتابیں ہیں۔ وہ اپنی تردید آپ ہیں۔ ان کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
ان میں سے ایک کتاب ”اسلامی فکر کیا ہے“ میں ہمارے مشن کو مطعون کرتے ہوئے صاحب کتاب نے لکھا تھا کہ نعوذ باللہ، ہمارا مشن ”اسلام پسندی کی رو کو رو کنے کی کوشش“ ہے۔ مصنف کی کتاب اور ان کے ساتھ تھی اس قسم کی باتوں کو ”تنقیدی جائزہ“ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف سب و شتم ہے۔ اور اس قسم کا بے دلیل سب و شتم کسی بھی شخص کے خلاف کیا جا سکتا