Al-Risala · May 2000 · page 14

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴

ہے۔ مثلاً مذکورہ مصنف کی مخالفانہ تحریروں کے بارے میں ٹھیک اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہمارے دعوتی مشن کی زد کو روکنے کی ایک ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ حیدر آباد میں میرے خطابات کی رپورٹنگ مقامی اخباروں میں ہوتی رہی، اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ انگریزی اخبار دکن کر انکل کے شمارہ ۷ فروری ۲۰۰۰ میں شائع شدہ رپورٹ کا عنوان یہ تھا:

Muslims urged to facilitate dialogue with other faiths. اس رپورٹ کے چند جملے یہ تھے:

He described Islam as a religion with a solid historical base. Today's man relates to history and logic as never before. The religions that have their grounding in vague and unfounded references and superstitions do not have a chance to survive. If the people are allowed to make a choice on the basis of facts, Islam would win unopposed. حیدر آباد میں وہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ جماعت اسلامی والے آپ کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ اب وہ اپنے بانی کی نام نہاد سیاسی فکر کو چھوڑ چکے ہیں اور آپ ہی کے دعوتی فکر کو لے کر چل رہے ہیں۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے حیدر آباد کے روز نامہ سیاست کا شمارہ ۳ دسمبر ۱۹۹۹ مجھے دکھایا۔ اس کے پہلے صفحہ پر سنگل کالم کی فیکس سے موصول شدہ ایک خبر میں جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کی تقریر کی رپورٹ چھپی تھی۔ اس کے مطابق جماعت کے موجودہ امیر نے ایس آئی او کے ایک تربیتی کیمپ (نئی دہلی) کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان نہ دارالحرب ہے نہ دارالکفر بلکہ یہ دار الدعوۃ ہے۔ " حیدر آباد کے جن صاحب نے مذکورہ اخبار مجھے دکھایا تھا انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی طور پر انہوں نے آپ سے لی ہے۔ یہ لوگ جب اپنے بانی کی فکر کو چھوڑ کر آپ ہی کی فکر کو اختیار کر چکے ہیں تو پھر وہ آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو یہ ان کے اوپر آپ کا ایک فکری احسان ہے۔ ان کے بانی کی ناقابل عمل سیاسی فکر نے ان کو ایک بند گلی (impasse) میں پہنچا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page