Al-Risala · May 2000 · page 15

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

حدیث میں آیا ہے کہ : من لم يشكر الناس لم يشكر الله (احمد، ترندی) یعنی جو آدمی انسان کا شکر ادا نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کرے گا۔ شکر کیا ہے۔ شکر کی حقیقت قلبی اعتراف ہے۔ جس چیز کو انسانی معاملات میں اعتراف کہا جاتا ہے اسی کا نام خدائی معاملہ میں شکر ہے۔ اگر آپ کو کسی انسان سے ایک عطیہ ملے اور آپ اس کا سچا اقرار نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا سینہ جذبہ اعتراف سے خالی ہے اور جو سینہ ایک کے معاملہ میں اعتراف سے خالی ہو وہ یقینی طور پر دوسرے کے معاملہ میں بھی اعتراف سے خالی ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ جس آدمی کے اندر شکر و اعتراف کا جذبہ نہ ہو وہ گویا اسی عبادتی حلاوت سے محروم رہ گیا جو اس دنیا میں کسی مومن کے لئے خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ تاہم شکر گہرے قلبی احساس کا نام ہے نہ کہ زبان سے کچھ الفاظ بول دینے کا۔

ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جو لوگ الرسالہ مشن کے خلاف جھوٹا طوفان کھڑا کر رہے ہیں مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ الرسالہ مشن کا اعتراف خواہ آج نہ کیا جائے مگر انشاء اللہ مستقبل کا مورخ اس کا اعتراف کرے گا۔ وہ لکھے گا کہ الرسالہ مشن عمومی اندھیرے میں سچائی کا ایک چراغ تھا۔

ایسے وقت میں جب کہ پوری مسلم دنیا اسلامی عمل کا مطلب صرف یہ سمجھتی تھی کہ اسلامی نظام کے نام پر حکمرانوں سے ہلاکت خیز ٹکراؤ کیا جائے، اس وقت الرسالہ مشن نے یہ بتایا کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کر کے پر امن تعمیر کے میدان میں کام کیا جائے۔ جب تمام مسلم ذہن صرف اس اعلان میں مشغول تھے کہ مغربی قو میں اسلام دشمن ہیں، ان سے لڑو، اس وقت الرسالہ مشن نے یہ نشاندہی کی کہ مغربی تہذیب نے دعوت کے نئے عظیم الشان مواقع

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page