Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
کھولے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم ان مواقع کو استعمال کریں۔ فلپائن اور برما جیسے بہت سے ملکوں میں جب مسلم رہنما اپنا علیحدہ سیاسی جزیرہ بنانے کے نام پر مرکزی حکمرانوں سے خونی جنگ چھیڑے ہوئے تھے، اس وقت الرسالہ مشن نے بتایا کہ زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ تقسیم کے بجائے توسیع کو اپنا نشانہ بنایا جائے۔ اسی طرح ہندوستان میں جب تمام علماء اور دانشور اس انکشاف میں مشغول تھے کہ یہاں دوسرا اسپین بنایا جا رہا ہے۔ الرسالہ مشن نے یہاں کے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ اس ملک میں ان کے لئے ہر قسم کے بہترین ترقیاتی مواقع موجود ہیں۔ ۔۱۹۴۷کے بعد ہندوستان میں ظاہر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بارہ میں جب مسلم رہنما صرف یہ جانتے تھے کہ ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا بے فائدہ لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اس وقت الرسالہ مشن نے اس نکتہ سے آگاہ کیا کہ اعراض کا اصول اختیار کرو، اور پھر فسادات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں۔ آپ الجزائر میں مسلم سالویشن فرنٹ کے مسلح جہاد کو درست نہیں سمجھتے۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ الجزائر میں اسلام پسندوں کو الیکشن کے ذریعہ اقتدار تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ ایسی حالت میں وہ اور کیا کر سکتے تھے کہ اپنے مقصد کے لئے تشدد کا سہارا لیں۔ I think they are more than justified. They were denied of ballots so they opted for bullets. What's wrong with this. میں نے کہا کہ یہ تشدد کے لئے کافی جواز نہیں۔ مسلم اداروں میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص میرٹ پر قابل انتخاب ہوتا ہے مگر ادارہ کے ذمہ دار اپنے ذاتی مصالح کی بنا پر اس کو رد کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ کسی اور شخص کا تقرر کر دیتے ہیں۔ اب اگر یہ رد کیا ہوا آدمی ادارہ کے ذمہ داروں کے خلاف بندوق اٹھا لے تو کیا آپ اس کو جائز قرار دیں گے۔ میں نے کہا کہ اقتدار کے حصول کو نشانہ بنا کر تحریک چلانا بذات خود ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ اور جب اقتدار نہ ملنے پر تشدد شروع کر دیا جائے تو یہ مزید اضافہ کے ساتھ غیر اسلامی فعل ہوگا۔ ان اسلام