Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷
پسندوں کے لئے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کو چھوڑ کر غیر سیاسی میدان میں دعوت اور تعلیم و ترقی کا کام کریں اور آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع الجزائر سمیت ہر ملک میں پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ تباہ کن فتنہ اسلام کی سیاسی تفسیر کا فتنہ ہے۔ اس سیاسی تفسیر نے اقتدار کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کو تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ اس سیاسی تفسیر نے موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان شاید پوری تاریخ میں اسلام کو نہیں پہنچا۔ قرآن کے مطابق ، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ صالح زندگی گزار نانشانۂ عمل ہے، اور سیاسی اقتدار کا پانا نتیجہ عمل۔
ایک مجلس میں میں نے قرآن کی کچھ آیتوں کی تشریح کی۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو کر رہ گیا۔ اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں (الاعراف ۷ : ۵۷۱۷۵)
سبب نزول کی روایات کے مطابق، یہ آیتیں امیہ بن ابی الصلت کے بارے میں اتریں۔ مگر تو سیعی مفہوم کے لحاظ سے ان آیتوں کا تعلق ہر دور سے ہے۔ ہر زمانہ کے انسانوں میں اس قسم کا کردار پایا گیا ہے جس کا ذکر قرآن کی ان آیتوں میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کی تعمیر کا موقع ہو مگر وہ دنیا کی تعمیر میں پھنس کر رہ جائیں، وہ اس سے اوپر نہ اٹھ سکیں۔ ایک شخص کو اقتدار ملے تو اس کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اقتدار کے ذریعہ عدل قائم کرے ۔ مگر وہ اقتدار کو صرف ذاتی بڑائی کا ذریعہ بنالے۔ ایک شخص کو مال ملے ۔ مگر وہ اپنے مال کو کار خیر میں استعمال کرنے کے بجائے اس کو ذاتی نمائش میں استعمال کرنے لگے۔ ایک شخص کو کسی