Al-Risala · May 2000 · page 18

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۸

ادارہ کا ذمہ دار بنایا جائے، اس طرح اس کو یہ موقع ملے کہ وہ اس ادارہ کو بنیاد بنا کر دین وملت کی خدمت کرے۔ مگر وہ اس ادارہ کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے حصول کا ذریعہ بنالے۔ اس قسم کا ہر کردار امیہ بن ابی الصلت کی مانند ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے رفعت کے بدلے پستی کا انتخاب کیا۔ اس کے لئے خدا کو راضی کرنے کا موقع تھا، مگر وہ صرف اپنی ذات کی پرستش میں لگا رہا۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں آج بھی بے قیمت ہیں۔ اور آخرت کے دن بھی وہ خدا کی نظر میں بے قیمت قرار پائیں گے۔ یہاں کے ایک عالم نے کہا کہ فقہ کے اختلافات پر آپ کی کتاب (تجدید دین) میں نے پڑھی۔ آپ نے اس میں فقہی اختلافات کی نہایت عمدہ توجیہہ کی ہے۔ اب آپ یہ بتائیے کہ فقہ میں عبادات کی جود رجہ بندی کی گئی ہے۔ فرض، واجب، سنت، سنت مؤکدہ، نفل وغیرہ، اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے درست طور پر لکھا ہے کہ یہ درجہ بندی یا یہ تقسیمات بعد کے فقہاء نے کی ہیں، وہ حدیث میں موجود نہیں (حجۃ اللہ البالغہ)۔ میں اس پر یہ اضافہ کروں گا کہ امور تعبدی میں اجتہاد نہیں ہے۔ اس لئے ان تقسیمات کی وہ اہمیت نہیں ہو سکتی جو عام طور پر لوگوں نے انہیں دے رکھی ہے۔

مزید یہ کہ اس درجہ بندی کا ایک نقصان بھی ہے۔ قرآن کے مطابق، عبادت کی اصل خشوع ہے۔ اس اعتبار سے عبادتی اعمال کی درجہ بندی کیفیت عبادت کے لحاظ سے ہونا چاہئے نہ کہ اشکال عبادت کے لحاظ سے، جیسا کہ ان تقسیمات میں کیا گیا ہے۔

میں نے حیدر آباد میں ایک صاحب کی تقریر میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دور اول میں اسلام کی جو دعوت چلائی گئی اس کا ذریعہ کتابوں کو پڑھانا پڑھانا نہ تھابلکہ اخلاق تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن کے خلاف بھی ہے اور واقعہ کے خلاف بھی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اقراء باسم ربك الذي خلق.علم بالقلم۔

قرآن خود ایک کتاب ہے آج کل کی زبان میں گویا کہ وہ ایک پیریڈایکل (Periodical) تھا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page