Al-Risala · May 2000 · page 19

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

جو ۲۳ سال کے دوران میں وقفہ وقفہ سے اترتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان اس حصہ قرآن کو فوراً پڑھ کر یاد کر لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔ وہ روزانہ غیر مسلموں کی مجالس میں جاکر انہیں قرآن سناتے۔ مقرر نے غالباً یہ دیکھا کہ اس زمانہ میں پرنٹنگ پریس نہ تھا۔ موجودہ قسم کی مجلد کتا بیں اس وقت نہیں پائی جاتی تھیں۔ پھر مطالعہ کے ذریعے کیسے اسلام پھیلایا جاتا۔ حالانکہ مکہ اور مدینہ میں دعوت کا جو طریقہ چلایا گیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعہ کتاب ہی کی حیثیت رکھتا تھا۔ صحابہ اپنے اپنے ماحول میں قرآن کی بنیاد پر گویا اسٹڈی سرکل چلا رہے تھے۔ خود قرآن کے الفاظ میں: تعلیم بالقلم (بالفاظِ دیگر تعلیم بالکتاب) دعوت کا ذریعہ ہے نہ کہ تعلیم بالاخلاق۔ اخلاق ایک شخصی عمل ہے جس کا محرک تقویٰ ہے نہ کہ دعوت۔

ریاست حیدر آباد اپنے ابتدائی دور میں مغلوں کے ماتحت رہی۔ ہندوستان میں جب برٹش دورآیاتو انھوں نے برٹش ماتحتی کو قبول کر لیا۔ یہ گویا سیاسی ٹکراؤ کو avoid کر کے اپنی موجود حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔ حیدر آباد کے مسلم حکمرانوں کی یہ پالیسی ان کے لئے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ اس طرح وہ کئی سو سال تک شاندار طور پر اپنے وجود کو باقی رکھنے میں کامیاب رہے۔ ۱9۴۲ میں تقریباً اسی نوعیت کا معاملہ ان کے لئے تیسری بار پیش آیا۔ اب ان کے لئے موقع تھا کہ وہ نئی دہلی کی سیاسی ماتحتی کو قبول کر کے بدستور اپنے ریاستی وجود کو باقی رکھیں۔ مگر کچھ پر جوش اور بے خبر مسلم لیڈروں کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدر آباد نے اپنی سابقہ حیثیت کھودی۔ وہ خود اپنے ہی کئی سو سالہ تجربہ سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ فرد کا معاملہ ہو یا حکومت کا معاملہ، اس دنیا میں ہر ایک کے لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے۔ وہ اپنے وجود سے باہر پائی جانے والی نا قابلِ تغیر حقیقتوں کو جانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو راستہ ہے وہ زیادہ پانے کے نام پر تھوڑے کو بھی کھو دینا ہے۔ حاکمانہ حیثیت کو حاصل کرنے کے نام پر آخر کار محکومانہ زندگی پر راضی ہونا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page