Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰
حیدر آباد میں بہت سے تاریخی آثار ہیں۔ ان میں سے ایک سالار جنگ میوزیم ہے۔ اس میوزیم میں ۴۰۰۰۰ قیمتی نوادر اکٹھا کئے گئے ہیں۔ یہ میوزیم اپنی خصوصیات کی بنا پر عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں یہ الفاظ درج ہیں ــــ نوادرات کا یہ ذخیرہ پوری مشرقی دنیا میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ شاید پوری دنیا میں:
The Collection is unique in the East and perhaps in the world. حیدر آباد کا ایک سبق آموز واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ میں پولیس ایکشن کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے اچانک پایا کہ وہ یہاں بالکل بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ لیکن جلد ہی بعد لوگوں نے دیکھا کہ یہاں کے مسلمان بڑی تعداد میں باہر کے دولت مند ملکوں میں گئے اور وہاں انھوں نے پہلے سے زیادہ ترقیاں حاصل کر لیں۔ اس کا راز کیا تھا۔ میں نے اس سلسلہ میں جو کچھ معلوم کیا اس کے مطابق اس کا راز یہ تھا کہ ۷۲ سے پہلے نظام کی حکومت نے یہاں تعلیم کو بہت ترقی دی۔ حتی کہ یہاں کی بیشتر آبادی تعلیم یافتہ ہو گئی۔
نظام کی حکومت نے ۱۹۱۶ میں پرائمری ایجوکیشن کی مکمل ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔ اس پالیسی کے تحت پرائمری تعلیم ہر فرد کے لئے مفت اور لازمی قرار دے دی گئی۔ ۷۲ کے اعداد و شمار کے مطابق حیدر آباد شہر میں ۴۰۰ پرائمری اسکول تھے۔ اسکول عمر کے تمام لڑکے اور ۹۰ فیصد لڑکیاں ان اداروں میں تعلیم پارہی تھیں۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی مدد سے کثیر تعداد میں شہر میں مڈل اسکول اور سکینڈری اسکول قائم ہوگئے۔ اسی طرح کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے بھی لوگوں کو ہر قسم کے مواقع فراہم کئے گئے۔
تعلیمی اداروں کی اس کثرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۷۲ تک حیدر آباد کے تقریباً تمام مرد و عورت کم و بیش تعلیم یافتہ بن چکے تھے۔ اس تعلیمی لیاقت نے یہاں کے لوگوں کو نیا حوصلہ دیا۔ وہ بڑی تعداد میں باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ اور پھر وہاں اپنی تعلیمی لیاقت کی بنیاد پر نیا ترقیاتی سفر شروع کر دیا۔ آج کے حیدر آباد میں آپ جدھر بھی جائیں، آپ کو یہاں کے مسلمانوں کی نئی ترقیوں