Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱
کے مناظر دکھائی دیں گے۔ قدیم حیدر آباد میں اگر ”چار مینار“ یہاں کی ترقی کی علامت تھا تو اب شاید چار سو سے زیادہ مینار یہاں کی ترقیوں کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ اس دنیا میں کوئی بھی حادثہ یا کوئی بھی سازش کسی قوم کا راستہ روکنے والی نہیں۔ خدا کی اس دنیا میں مواقع اور امکانات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا یکسر خاتمہ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ یہاں اگر ایک امکان کو ختم کیا جائے تو اس کے بعد ایک سو مزید امکان ابھر کر سامنے آ جائیں گے۔ حیوانات کی دنیا میں ایک امیا(amoeba) ختم ہو کر دو امیا پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی دنیا میں یہی امکان مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ نظام خود فطرت کے اٹل قانون کے تحت قائم ہے۔ اور بلاشبہ کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں جو فطرت کے قانون کو بدل سکے۔ مولانا مصلح الدین قاسمی حیدر آباد میں رہتے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ منصف کے دو شمارے (۵ مارچ، ۲ اپریل ۱۹۹۹) دیئے۔ ان میں ان کا ایک مضمون دو قسطوں میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: ”مولانا وحید الدین خاں کے خلاف اعتراضات، کتنی حقیقت، کتنا فسانہ“۔ اپنے اس تفصیلی مضمون میں مولانا مصلح الدین صاحب نے صرف یہ کیا تھا کہ میرے معترضین نے میری جن عبارتوں کی قطع و برید کر کے ان پر اعتراضات وارد کیے ہیں۔ وہ عبارتیں انھوں نے اصل کتاب سے لے کر پوری پوری نقل کر دیں۔ یہ طریقہ اپنے آپ اعتراضات کا جواب بن گیا۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ غیر ذمہ دار معترضین میری عبارتوں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کو خود ساختہ انداز میں پیش کر رہے تھے اور اس طرح لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال رہے تھے۔ مولانا مصلح الدین صاحب نے بتایا کہ ان کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو گئیں اور وہ خود معترضین کو غلط سمجھنے لگے۔ جنھوں نے اصل عبارت میں مسخ (distortion) کے ذریعہ اپنا خود ساختہ اعتراض نکالا تھا جو کہ اصل عبارت میں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ قیام حیدر آباد کے دوران بار بار شہر کی مختلف علاقوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ ہر طرف اقتصادی سرگرمیاں دکھائی دیں۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں پیسہ کمانے کے