Spiritual Empowerment
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲
جو نئے نئے مواقع کھلے ہیں ان کے بعد کسی کو ہمارے خلاف دشمنی کرنے کی فرصت نہیں۔ ہر آدمی اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اگر آپ اس کونہ چھیڑیں تو وہ کبھی آپ کے لئے خطرہ نہیں بنے گا۔ موجودہ زمانہ لوگوں کے لئے شدید معاشی مصروفیت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کے شر سے بچنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ انہیں اپنے اقتصادی کاموں میں مشغول رہنے دیا جائے۔ ۶ فروری کو دوسرا خطاب منالی گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہ شام کو مغرب کی نماز کے بعد تھا۔ اس کا موضوع تھا: اسلام کی دعوت ۲۱ویں صدی میں۔
میں نے اپنی مفصل تقریر میں کہا کہ دور جدید اپنے امکانات کے اعتبار سے دور اسلام ہے۔ زمانہ نے فیصلہ کی جو نئی بنیاد فراہم کی ہے وہ عین ہمارے حق میں ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیل کے ساتھ دعوت کے جدید امکانات کو بتایا۔
۷ فروری کی شام کو منالی گیسٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اکثر اخبارات کے نمائندے اس میں موجود تھے۔ زیادہ تر سوالات مسلم مسائل کے بارے میں کئے گئے۔ جن کا جواب میں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دیا۔
ایک اخبار نویس نے کہا کہ آپ اکثر مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آخر یہ صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ یہ سوال اتناہی غیر مناسب ہے جتنا کہ یہ سوال کہ نماز کب تک یا روزہ کب تک۔ ظاہر ہے کہ نماز اوروزہ خدا کی طرف سے انسان کے اوپر عبادتی فریضہ ہے، اس لئے اس میں "کب تک" کا سوال نہیں۔ جب تک آپ اس دنیا میں ہیں اس وقت تک آپ کو نماز ور روزہ کا فریضہ انجام دینا ہے۔
یہی معاملہ صبر کا بھی ہے۔ صبر کوئی مجبورانہ روش نہیں۔ وہ خدا کی ایک عبادت ہے۔ بلکہ صبر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والے بلا حساب اجر پائیں گے۔ (الزمر ۳۹) ایسی حالت میں ہم کو زیادہ سے زیادہ صبر کرنا ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ انعام پائیں۔ اصل یہ ہے کہ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ انسان فتنوں سے بھری اس دنیا میں مثبت نفسیات